سندھ میں ضمنی بلدیاتی انتخابات24ستمبر کو ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے 14 اضلاع کی 29 نشستوں پر ضمنی بلدیاتی انتخابات 24 ستمبر 2025کو منعقد ہوں گے، اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون لے جانے پر پابندی عائد کردی ہے، صرف پریزائڈنگ افسران، اسسٹنٹ پریزائڈنگ افسران اور سیکورٹی اہلکاروں کو موبائل فون لے جانے کی اجازت ہو گی۔مزید برآں کہ الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشنز ایکٹ 2017 کی شق نمبر 182 کے تحت پولنگ سے 48 گھنٹے قبل کسی بھی قسم کے عوامی اجتماعات، کارنر میٹنگز اور جلسے جلوسوں پر بھی پابندی ہوگی، یہ پابندی 22 اور 23 ستمبر کی درمیانی شب سے پولنگ کے اختتام تک نافذ العمل رہے گی۔اس سلسلے میں صوبائی الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن شفاف، غیر جانبداراور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیئے مکمل اور دیر پا اقدامات کر رہا ہے، انہوں نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران، سیکورٹی اہلکاروں اور متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور انتخابی قوانین اور ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
اوقاف بورڈ نے زائرین کے نذرانوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے کے الزام میں داتا دربار کے 5 سینئر افسران کو سزا سنادی۔
ملزمان میں سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد، سابق مینجر طاہر مقصود، سابق اسٹینو گرافر ثاقب نسیم سمیت دیگر ملازمین شامل ہیں۔
محکمہ اوقاف بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے انکوائری کے بعد سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو انکے اصل مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لئے کم درجے کے عہدے (BS-15) اور پے اسکیل پر تنزلی کا حکم دیا ہے۔
شیخ جمیل احمد کی 5 سال کی پچھلی سروس بھی ضبط کر لی گئی ہے، انہیں 9,265,800 روپے ادا کرنے ہوں گے جبکہ انکے سروس ریکارڈ میں منفی اندراج بھی کیا جائے گا، مستقبل میں اُنہیں کسی بھی کیش ہینڈلنگ آفس یا فیلڈ ریونیو پوسٹ پر تعینات کرنے پر مستقل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اسی طرح سابق مینیجر داتا دربار طاہر مقصود کو سرکاری ملازمت سے برطرفی کی سزا دی گئی ہے، اسکے ساتھ 11,324,867 روپے (ان کا 55 فیصد واجب الادا حصہ) کی انفرادی مالیاتی ریکوری اور مستقبل میں فیلڈ پوسٹنگز پر مستقل پابندی عائد کی گئی ہے۔
سابق اسٹینو گرافر ایڈمنسٹریٹر آفس ثاقب نسیم کو 4 سال کی مدت کےلئے پچھلی سروس ضبط کرنے کی سزا دی گئی ہے اور ان پر انتظامی پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کسی بھی خفیہ برانچ ایڈمنسٹریٹر دفاتر اور حساس دفاتر یا سی سی ٹی وی سیکیورٹی سے متعلقہ سائنمنٹس پر تعینات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
سابق کیئر ٹیکر نور حسین کو تین سال کی مخصوص مدت کےلئے سالانہ ترقیاں روکنے کی سزا دی گئی ہے اور انہیں داتا دربار یا کسی بھی بڑے کیش جنریٹنگ مزار پر مستقبل میں تعینات کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
سابق کیئر ٹیکر محمد شریف اگرچہ اس مخصوص انکوائری رپورٹ کے الزامات سے بری ہو گئے ہیں لیکن مزار پر ایک زائر سے نقدی چوری کرنے کی وائرل ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد انکے خلاف فوری طور پر علیحدہ اور آزادانہ تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انہیں داتا دربار یا کسی بھی دوسرے بڑے مزار پر تعیناتی سے مستقل طور پر روک دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقدس مذہبی اداروں کے اندرکرپشن عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے، کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے گا۔