کراچی، شادی کے دن پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والا دلہا 5 دن بعد گھر واپس پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے کورنگی نمبر چار مدینہ کالونی سے 11 ستمبر کو پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والا دلہا جہانزیب بالآخر گھر واپس پہنچ گیا۔
وہ اپنی شادی کے دن تیار ہونے کے لیے قریبی سیلون گیا تھا، تاہم اس کے بعد واپس نہ آیا، جس کے بعد اہلِ خانہ نے اس کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو دی تھی۔
جہانزیب کی پراسرار گمشدگی نے اہلِ علاقہ اور سوشل میڈیا پر تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔
تاہم پانچ دن بعد وہ اچانک واپس گھر پہنچا۔ پولیس کے مطابق جہانزیب سے اس کی گمشدگی کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے، مگر تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچا گیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس وقت جہانزیب کی ذہنی اور جسمانی حالت ایسی نہیں کہ وہ کچھ بتا سکے۔ ان کے مطابق ہم اس وقت کوئی تفصیل فراہم نہیں کرسکتے، جہانزیب ابھی بات کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔