بی ایل اے مجید بریگیڈ کے نائب سربراہ رحمان گل افغانستان میں فائرنگ کے دوران ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مجید بریگیڈ کے نائب سربراہ رحمان گل المعروف استاد مرید افغانستان میں فائرنگ کے دوران ہلاک ہوگئے۔
افغانستان کے صوبہ ہلمند میں فائرنگ کے ایک واقعے میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی مجید بریگیڈ کے نائب سربراہ کمانڈر رحمان گل المعروف استاد مرید ہلاک ہوگئے۔
Breaking news: Captain Rahman Gul, also known as Ustad Mureed, the second-in-command of the Baloch Liberation Army’s (BLA) Majeed Brigade and mastermind behind the Jaffar Express incident, was killed in a shooting in Afghanistan’s Helmand province.
— Mahaz (@MahazOfficial1) September 17, 2025
ذرائع کے مطابق استاد مرید جعفر ایکسپریس حملے کے مرکزی منصوبہ ساز تھے اور متعدد بڑی تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہے، جن میں چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملے بھی شامل ہیں۔
رحمان گل بی ایل اے کے انتہائی متحرک اور اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور مجید بریگیڈ کے دوسرے مرکزی کمانڈر کی حیثیت سے سرگرم تھے۔
افغان حکام یا علاقائی ذرائع کی جانب سے تاحال واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغانستان بی ایل اے مجید بریگیڈ ہلاک وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان بی ایل اے مجید بریگیڈ ہلاک وی نیوز مجید بریگیڈ کے بی ایل اے رحمان گل
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔