اسلام آباد،پشاور(اپنے سٹاف رپورٹر سے + خبر نگار خصوصی +بیورو رپورٹ) بلوچستان میں دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے  22دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 28 اور 29 اکتوبر کو بلوچستان میں 2 الگ الگ کارروائیاں کی گئیں۔ اس دوران کوئٹہ کے علاقے چلتن میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں بھارتی سرپرستی یافتہ 14 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ علاوہ ازیں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیچ کے علاقے بلیدہ میں کیا گیا جہاں دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو تباہ کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے ان دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے۔ ہلاک کیے گئے یہ دہشت گرد مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔ کسی بھی بھارتی سپانسرڈ دہشتگرد کو انجام تک پہنچانے کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ملک سے غیرملکی سرپرستی و حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ خیبر پی کے کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے ایک گروہ کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، بھارتی پراکسی، فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے29  اور30  اکتوبر کی درمیانی شب پاک افغان بارڈر کے قریب دراندازی کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگایا اور کارروائی کرتے ہوئے انہیں ہلاک کر دیا۔ مارے جانے والوں میں انتہائی مطلوب خارجی کمانڈر امجد عرف مزاحم بھی شامل تھا جو خوارج کمانڈر نور ولی کا نائب اور بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج کی رہبری شوری کا سربراہ تھا۔ حکومت پاکستان نے امجد کے سر کی قیمت50  لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ ہلاک دہشت گرد افغانستان میں مقیم رہتے ہوئے پاکستان کے اندر متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا۔ دریں اثنا صدر مملکت آصف علی زرداری نے چلتن اور بلیدہ میں کارروائی کے دوران18 بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گردوں کے مارے جانے کو سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے کی کلیئرنس دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کی عکاس ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، سکیورٹی فورسز کے عزم و حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے بلوچستان میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز نے ا ئی ایس پی ا ر فتنہ الخوارج بلوچستان میں ہلاک کر دیا کے مطابق گردی کے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری