کراچی: کورنگی سے لاپتہ ہوکر گھر واپس آنے والے دلہے کا ابتدائی بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
اسکرین گریب
کراچی کے علاقے کورنگی سے لاپتہ ہوکر گھر واپس آنے والے دلہے کا ابتدائی بیان سامنے آگیا۔
اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ دلہا جہانزیب شادی سے قبل گھر سے خود اپنی مرضی سے گیا، دلہے کی شادی گھر والے اپنے مرضی سے کروانا چاہتے تھے۔
پولیس کے مطابق دلہا شادی سے انکار کر چکا تھا اور پریشانی کے باعث گھر سے فرار ہو گیا، دلہا گھر سے فرار ہونے کے بعد سڑکوں پر رہا اسے کسی نے اغواء نہیں کیا۔
پولیس نے کہا کہ دلہے اور گھر والوں سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے کراچی: شادی والے دن لاپتہ ہونیوالا دلہا واپس لوٹ آیا، پولیس کراچی: کورنگی مدینہ کالونی سے شادی کے دن دلہا لاپتہواضح رہے کہ گزشتہ روز کورنگی کے علاقے مدینہ کالونی میں شادی والے دن لاپتہ ہونے والا دلہا اپنے گھر واپس لوٹ آیا تھا۔
یاد رہے کہ 11 ستمبر کو شادی کے روز دلہا پُراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا تھا، دلہے کے والد، مدعی نے پولیس کو بتایا کہ جہانزیب کی بارات 11 ستمبر کو جانی تھی، شادی کے روز وہ شام 6 بجے کورنگی نمبر 4 پر واقعے سیلون جانے کے لیے موٹر سائیکل پر گھر سے نکلا تھا، شام تقریباً ساڑھے 7 بجے سیلون سے تنویر نامی شخص کی کال آئی جس نے بتایا کہ جہانزیب تاحال سیلون نہیں پہنچا ہے۔
فون کال کے بعد جہانزیب کی تلاش شروع کی گئی، جہانزیب کا زیرِ استعمال موبائل فون بھی گھر پر موجود تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گھر سے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔