پیرس(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 ستمبر ۔2025 )فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مہنگائی‘حکومتی اخراجات میں اضافے اور بیروزگاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اورایک لاکھ کے قریب مظاہرین پیرس میں جمع ہیں ‘ملک کی تمام بڑی ورکر یونینوں نے بھی حکومت کے بجٹ اقدامات کے خلاف ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی ہے جس سے ملک بھر میں نقل و حمل رکاوٹیں آرہی ہیں.

(جاری ہے)

فرانسیسی نشریاتی ادارے کے مطابق مظاہرین نے پیرس کی مختلف شاہراﺅں پر آگ لگا کر ٹریفک بندکردی جبکہ ٹرین اسٹیشنوں کے راستوں پر مظاہرین اوررکاوٹیں موجود ہیں گزشتہ روزبھی 40ہزار کے قریب مظاہرین نے پیرس میں احتجاج ریکارڈکروایا تھا ‘مظاہرین صدر میکرون کے استعفے اور معاشی اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں جن سے شہریوں پر معاشی دباﺅ ختم ہو.

مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات میں مسلسل اضافہ کررہی ہے جس کا بوجھ ٹیکس دہندگان کو اٹھانا پڑتا ہے ‘مظاہرین دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم ختم کرنے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں‘رپورٹ میں بتایا گیا ہے مظاہرین دن بھر پیر س کی اہم شاہراﺅں اور عمارتوں کے باہر موجود رہتے ہیں ‘فرانس 24کے مطابق مظاہرین میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے جنہیں بیروزگاری کا سامنا ہے .

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ضروریات زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور حکومت عوامی مسائل سے بے نیاز اپنے اخراجات میں مسلسل اضافہ کررہی ہے . رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں فرانس میں اتنے بڑے پیمانے پر مظاہرے نہیں دیکھے گئے جو تقریبا ایک ہفتے سے جاری ہیں ‘ویک اینڈ پر مظاہرین نے پیرس سمیت مختلف شہروں میں 250 سے زیادہ ریلیوں کا اعلان کیا ہے فرانسیسی حکام کا خیال ہے کہ ان ریلیوں میں8لاکھ سے زیادہ افراد متوقع طور پر شرکت کرسکتے ہیں.

فرانس میں احتجاج کا آغاز سابق وزیراعظم باوئرکے تجویزکردہ بجٹ اقدامات پر ہوا تھا ‘احتجاج کے نتیجے میں فرانسیسی پارلیمان نے تحریک عدم اعتماد کے بعد انہیں عہدے سے ہٹادیا تھا مگر مظاہرین وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کے اقدام سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھاہوا ہے نئے وزیر اعظم سبسٹین لیکورنو نے فوری طور پر چند غیرمقبول بجٹ اصلاحات کو ختم کرنے کا اعلان کیا جبکہ معاشی اصلاحات کے حوالے سے مظاہرین کے مطالبات کو مسترد کردیا گیاجن میں بے روزگاری کے خاتمے کے اقدامات، تنخواہوں اورپنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ‘ طبی و رہائشی سہولیات میں اضافہ شامل ہیں گزشتہ سال فرانس کا خسارہ جی ڈی پی کے مقابلے میں 5.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو کہ یورپی یونین کی تجویزکردہ حد 3 فیصد سے تقریباً دوگنا ہے، جبکہ قومی قرضہ اب 3.3 ٹریلین یورو سے زیادہ ہے، جو اقتصادی پیداوار کا تقریباً 114 فیصد ہے.

سابق وزیراعظم بائرو کا موقف تھا کہ خسارے کو کم کرنے کے لیے بجٹ میں عوامی سہولیات کی مدمیں سخت کٹوتیاں ناگزیر ہیں ان کے معاشی منصوبے کے مطابق 2026 تک اخراجات میں 44 بلین یورو کی کمی لانا تھا تاہم مظاہرین کا موقف ہے کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے شہریوں کی میسرسہولتوں کوکم کررہی ہے جبکہ شہری ان سہولیات کے لیے بھاری ٹیکس اداکرتے ہیں.

فرانس کی ورکر یونینوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پالیسیاں ”بے مثال ظلم“کے مترادف ہیں جن میںمزدوروں، بے روزگاروں، پنشنرز اور بیماروں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے عوام اور یونینوں کو مطمئن کرنے کے لیے وزیر اعظم سبسٹین لیکورنو نے سابق وزرائے اعظم اوروزراءکے لیے ”تاحیات“ سہولیات ختم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے سال 2024 میں سابق وزرائے اعظم اور وزراءکو دی گئی سہولیات کا سالانہ تخمینہ تقریباً 4.4 ملین یورو لگایا گیا تھا جبکہ اس رقم کا تقریباً نصف پولیس پر خرچ ہوا فرانس کے تمام بڑے شہروں: پیرس، لیون، مارسیلی، ٹولوز، نائس، رینس، لِل، مونٹ پیلیئر، نیمز اور پرپیگنان میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں‘پیرس میں آج مظاہرین پلیس ڈی لا باسٹیل سے ریپبلک نیشن تک مارچ کریں گے جبکہ ایک تنظیم نے پہیہ جام ہڑتال کی کال دی رکھی ہے جس کے تحت اہم شاہراﺅں اور ٹرینیوں کو بند کیا جائے گا.

پیرس کی ٹرین کمپنیوں نے مسافروں کو مفت ٹکٹ فراہم کرنے ‘ٹکٹوں کے تبادلے اور منسوخی کی پیشکش کی ہے‘رپورٹ میں بتایا گیا ہے پیرس کے مرکزی علاقوں میں نقل وحرکت ممکن نہیں ہے پولیس کی جانب سے ابتدائی دنوں میں مظاہرین کو روکنے کی کوششوں میں پرتشددمظاہروں کے بعد پولیس مظاہرین سے ٹکراﺅ سے بچاﺅ کی پالیسی اختیار کیئے ہوئے ہے‘فرانس 24نیوزکے مطابق ایئرٹریفک کنٹرولر‘ ایئرپورٹ ورکرزکی یونینوں کی مظاہروں میں شرکت کی وجہ سے فرانس کے ایئرپورٹس پر فضائی آپریشن متاثرہورہے ہیںمظاہروں کے بعد وزیر داخلہ برونو ریٹیلیو بھی مستعفی ہوگئے ہیں جبکہ حکام نے پولیس کی مددکے لیے نیم فوجی دستوں کے80ہزاراہلکاروں کو ملک بھرمیںتعینات کرنے کا عندیہ دیا ہے .

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیرس میں مظاہرین کو روکنے کے لیے 24 بکتر بند گاڑیاں، 10 واٹر کینن اور سرویلنس ڈرونز تعینات کیئے جارہے ہیں‘رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر نے صورتحال کو کنٹرول کرنے‘اہم شاہراﺅں‘مقامات اور عمارتوں سے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ پیرس نیز رینس، نانٹیس، ٹولوز، ڈیجون، لیون، مونٹ پیلیئر اور بورڈو جیسے بڑے شہروں میں معمولات زندگی کو بحال کرنے کے لیے کاروائیاں کی جائیں.

دوسری جانب مظاہرین نے صحافیوں سے گفتگو میں صدرمیکرون کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ صدر نے مظاہرین کو دھوکا دینے کے لیے اپنی جماعت کے ایک وزیراعظم کو ہٹاکردوسرے کو تعینات کردیا ہے ہم چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں نظام کی تبدیلی کے لیے نکلے ہیں ‘مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدرمیکرون اور ان کی جماعت معاشی بحران کے ذمہ دار ہیں لہذا وہ فوری طورپر مستعفی ہوں.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا کہنا ہے کہ اخراجات میں مظاہرین کو مظاہرین کا مظاہرین نے کے مطابق پیرس میں کرنے کے کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری