8 لاکھ افراد پیرس کی سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار، ہڑتال سے کونسے شعبے متاثر ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
فرانسیسی ٹریڈ یونینز نے جمعرات کو ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کی کال دی ہے تاکہ ان ’سخت‘ بجٹ اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی جا سکے جو موسم گرما میں متعارف کرائے گئے تھے۔ نئے وزیرِاعظم سباسشیئن لکورنو نے اب تک ان اقدامات کو مسترد کرنے سے انکار کیا ہے۔
پیر کو وزیراعظم سباسشیئن لکورنو سے ملاقات کے بعد سخت گیر سی جی ٹی یونین نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ پرعزم ہیں، حالانکہ حکومت نے 2 سرکاری چھٹیاں ختم کرنے کا متنازع منصوبہ واپس لے لیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یونین رہنما صوفی بینے کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کسی چیز کی ضمانت نہیں دی، سابق وزیراعظم فرانسوا بایرو کے دور کی کوئی بھی تباہ کن پالیسی واپس نہیں لی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:فرانس میں ’بلاک ایوری تھنگ‘ مظاہرے، ہنگامہ آرائی اور تصادم
فرانسیسی وزیراعظم نے عہدہ سنبھالتے وقت ’بنیادی تبدیلیوں‘ کا وعدہ کیا تھا اور گزشتہ ہفتے زیادہ تر یونینز سے ملاقاتیں کیں، تاہم مزدور رہنما اپنے 18 ستمبر کے احتجاج کے اعلان پر ڈٹے ہوئے ہیں تاکہ آئندہ بجٹ پر اثرانداز ہو سکیں۔
پچھلے سال جون 2023 کے بعد پہلی مرتبہ 9 یونینز اکٹھا مارچ کریں گی، سی جی ٹی کے مطابق اب تک پورے فرانس میں 220 سے زائد ریلیوں کا اعلان ہو چکا ہے۔
یونین رہنما چاہتے ہیں کہ مظاہرین کی تعداد ’بلاک ایوری تھنگ‘ تحریک سے زیادہ ہو، جس نے رواں ماہ 10 ستمبر کو تقریباً 2 لاکھ افراد کو سڑکوں پر نکالا، لیکن ملک کو مکمل طور پر بند کرنے میں ناکام رہی۔
مزید پڑھیں:فرانسیسی حکومت کا انہدام: وزیرِاعظم فرانسوا بایرو عدم اعتماد کے بعد عہدے سے فارغ
سی ایف ٹی سی کے سربراہ سیریل شابانیے چاہتے ہیں کہ 10 لاکھ افراد احتجاج میں ساتھ دیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ شرکا کی تعداد 8 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے اور اس میں سینکڑوں شدت پسند مظاہرین بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
یونینز کا الزام ہے کہ حکومت کا بجٹ عوام پر ’غیرمعمولی بربریت‘ مسلط کر رہا ہے، جس میں عوامی خدمات میں کٹوتیاں، بیروزگاری انشورنس میں نئی اصلاحات، مراعات اور تنخواہوں پر منجمدی، پنشن میں کمی، علاج معالجے کے اخراجات میں اضافہ اور حتیٰ کہ تنخواہ کے ساتھ پانچویں ہفتے کی چھٹی ختم کرنے کی دھمکیاں شامل ہیں۔
ٹرانسپورٹ اور تعلیم پر بڑا اثرپیرس کے ٹرانسپورٹ ادارے کی 4 بڑی یونینز نے ہڑتال کی کال دی ہے، جس سے میٹرو اور آر ای آر لائنز پر بھاری خلل متوقع ہے، بعض لائنیں بند رہیں گی اور صرف خودکار میٹرو لائنز معمول کے مطابق چلیں گی۔ علاقائی ٹرینوں اور ایس این سی ایف کے نیٹ ورک پر بھی ہڑتال کا اثر پڑے گا۔
پرائمری اساتذہ کی سب سے بڑی یونین کے مطابق ایک تہائی اساتذہ ہڑتال میں شریک ہوں گے، جس سے اسکول کینٹین اور بعد از اسکول خدمات بھی متاثر ہوں گی۔
عجائب گھر اور تاریخی مقامات بندہڑتال سے ایک روز قبل ہی آرک ڈی ٹرایمف بند کر دیا گیا ہے جبکہ لوور میوزیم اور ورسائی کے محلات میں بھی داخلے پر پابندیاں متوقع ہیں۔
فارمیسیز کی شمولیتتقریباً 90 فیصد فرانسیسی فارمیسیز بھی جمعرات کو بند رہیں گی، یہ احتجاج بجٹ سے زیادہ اس پالیسی کے خلاف ہے جس کے تحت حکومت نے جنیرک دواؤں پر ریبیٹ کم کر دیا ہے، جس سے ہزاروں فارمیسیز کے بند ہونے اور ادویات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتجاج اسکول کینٹین انشورنس بیروزگاری ٹریڈ یونینز فرانس ملک گیر میٹرو لائنز ہڑتال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول کینٹین بیروزگاری ٹریڈ یونینز ملک گیر میٹرو لائنز ہڑتال کے مطابق
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔