فلائی جناح نے دبئی اور لاہور کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
پاکستان کی فضائی کمپنی فلائی جناح نے لاہور اور دبئی کے درمیان نئی براہ راست پروازوں کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے جو 29 اکتوبر 2025 سے شروع ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: فلائی جناح اور ایئر عربیہ کے ایوی ایشن ٹریننگ وینچر کی منظوری
گلف نیوز کے مطابق یہ نئی فضائی سروس ہر ہفتے بدھ اور اتوار کو چلائی جائے گی جس کے تحت علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ (لاہور) کو دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے براہِ راست جوڑا جائے گا۔
شارجہ کے بعد دبئی فلائی جناح کے لاہور نیٹ ورک میں شامل ہونے والا دوسرا اماراتی شہر بن گیا ہے۔ فلائی جناح اس سے قبل لاہور کو ریاض، جدہ، دمام اور بحرین سے بھی جوڑ چکی ہے۔
مزید پڑھیے: نئی سعودی ایئرلائن ’فلائی ادیل‘ پاکستان کے لیے کن شہروں سے پرواز بھرے گی؟
ایئرلائن کے پاس 6 جدید ایئربس A320 طیاروں کا بیڑا موجود ہے جو مسافروں کو اضافی ٹانگوں کی جگہ، آن بورڈ مینو، مفت ان فلائٹ اسٹریمنگ اور وفاداری پروگرام جیسی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: فلائی ناس کا کراچی سے مدینہ تک براہ راست پرواز چلانے کا اعلان
لاہور اور دبئی کے درمیان نئی پروازوں کی بکنگ فلائی جناح کی ویب سائٹ، کال سینٹر اور مجاز ٹریول ایجنسیز کے ذریعے دستیاب ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فلائی جناح فلائی جناح فلائٹ برائے دبئی فلائی جناح کی دبئی پرواز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فلائی جناح فلائی جناح فلائٹ برائے دبئی فلائی جناح کی دبئی پرواز فلائی جناح
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔