ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنا ہم سب کا فرض ہے، سعدیہ دانش
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ ریاستی اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں اور عوام کے باہمی تعاون سے ہم گلگت بلتستان کو ایک پرامن، محفوظ اور مثالی خطہ بنا سکتے ہیں۔ مذہبی و مسلکی ہم آہنگی ہی گلگت بلتستان کی اصل شناخت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی و صوبائی سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی گلگت بلتستان سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے باشعور عوام نے ہمیشہ بھائی چارے، رواداری اور باہمی احترام کی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔ ہم اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ مذہبی و مسلکی ہم آہنگی ہی ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم ایک دوسرے کے عقائد، نظریات اور مقدسات کا احترام کریں اور ایسی تمام سوچوں، باتوں اور اعمال سے گریز کریں جو کسی بھی فرد یا گروہ کے جذبات کو مجروح کر سکتے ہوں۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہوتا ہے، مگر اس اختلاف کو نفرت، تعصب یا تصادم میں بدلنے کی ہر کوشش کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔ ہم تمام علماء کرام، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آگاہی اور مثبت پیغام رسانی کے ذریعے معاشرے میں امن، اتحاد اور رواداری کو فروغ دیں۔ کسی بھی قسم کے فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دینا نہ صرف معاشرتی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ ہمارے خطے کی ترقی اور مستقبل پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
سعدیہ دانش نے کہا کہ ریاستی اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں اور عوام کے باہمی تعاون سے ہم گلگت بلتستان کو ایک پرامن، محفوظ اور مثالی خطہ بنا سکتے ہیں۔ مذہبی و مسلکی ہم آہنگی ہی گلگت بلتستان کی اصل شناخت ہے۔ ہم سب کا فرض ہے کہ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں، نفرت کی نہیں محبت کی زبان بولیں، گلگت بلتستان میں ہمیشہ سے مختلف مکاتب فکر اور مذاہب کے افراد نے بھائی چارے اور باہمی احترام کے ساتھ رہنے کی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اس ورثے کی حفاظت کریں اور ہر اس سوچ، رویے اور عمل کی حوصلہ شکنی کریں جو معاشرتی انتشار یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔ ہم عوام، علما، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عدم برداشت اور تعصب سے گریز کرتے ہوئے اتحاد، رواداری اور مثبت سوچ کو فروغ دیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان ایک پرامن، باوقار اور ثقافتی طور پر متنوع خطہ ہے جہاں مختلف مسالک اور مذاہب کے لوگ صدیوں سے بھائی چارے، باہمی احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ہمیں مزید یکجہتی، برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ مذہبی و مسلکی اختلافات کو نفرت یا تصادم میں تبدیل کرنے کی ہر کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس امر پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر فرد کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے کا آئینی اور اخلاقی حق حاصل ہے، بشرطیکہ وہ دوسروں کے عقائد کا بھی اسی جذبے سے احترام کرے۔ گلگت بلتستان کی ترقی، خوشحالی اور امن ہم سب کے اجتماعی رویے، کردار اور باہمی تعاون سے جُڑی ہوئی ہے۔ ریاستی ادارے قانون کی عملداری کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اور معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ اس عمل میں حکومت کا ساتھ دے تاکہ گلگت بلتستان ایک محفوظ، پُرامن اور مثالی خطہ بنے۔ نفرت، تعصب اور تفرقے کو مسترد کر کے محبت، احترام اور اتحاد کی فضا کو مضبوط کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مذہبی و مسلکی گلگت بلتستان ایک پرامن کا فرض ہے ہم آہنگی کے عقائد کہا کہ ہیں کہ نے کہا
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔