کپل شرما کے کیفے پر حملہ، کامیڈین کس حال میں ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
بھارتی کامیڈین کپل شرما کا کیفے فائرنگ کا نشانہ، دہشتگرد تنظیم کے کارندے نے ذمہ داری قبول کرلی.
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کپل شرما کے حال ہی میں کینیڈا میں لانچ ہونے والا "کپس کیفے" پر حملہ کیا گیا ہے۔ افتتاح کے چند روز بعد ہی اس کیفے پر کم از کم 9 گولیاں چلائی گئیں جس کے بعد علاقے میں خوف ہراس پھیل گیا۔
خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم یہ واقعہ اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر گیا جب بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل، کالعدم تنظیم بابا خالصہ انٹرنیشنل (BKI) سے تعلق رکھنے والے کارندے ہرجیت سنگھ لڈی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
View this post on InstagramA post shared by Mamaraazzi (@mamaraazzi)
اطلاعات کے مطابق ہرجیت سنگھ کی جانب سے یہ اقدام مبینہ طور پر کپل شرما کی جانب سے دیے گئے کچھ بیانات کے خلاف ردعمل کے طور پر کیا گیا۔
یاد رہے کہ کپل شرما کی ریسٹورنٹ انڈسٹری میں یہ پہلی پیش رفت تھی، جو اب سیکیورٹی خطرات کے باعث تنقید اور تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ کپل شرما اس واقعے کے بعد شدید پریشانی کا شکار ہیں اور اس پر ردعمل دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کپل شرما
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔