بھارت نے پہلی بار آئی سی سی ویمن ورلڈکپ جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-01-2
ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت نے جنوبی افریقا کو 52 رنز سے شکست دے کر آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیت لیا۔ممبئی میں کھیلے گئے فائنل میں بارش کے سبب میچ تاخیر سے شروع ہوا مگر اوورز میں کٹوتی نہیں ہوئی، جنوبی افریقا نے ٹاس جیت کر پہلے بھارت کو بیٹنگ دی جس نے مقررہ 50 اوورز میں 7وکٹ پر 298 رنز اسکور کیے۔شفالی ورما نے 87، دپتی شرما نے 58 اور سمرتی مندھانا نے 45رنز بنائے۔جنوبی افریقا کی ایا بونگا کھاکا نے تین وکٹیں حاصل کیں۔جواب میں جنوبی افریقا کی ٹیم 246رنز بناسکی، کپتان لورا وولوارٹ نے 101رنز کی اننگز کھیلی لیکن وہ اپنی ٹیم کو فیصلہ کن معرکہ نہ جتواسکیں، اْنہوں نے گیارہ چوکے اور ایک چھکا لگایا۔اینیری ڈریکسن نے 35 رنز کی اننگز کھیلی، دپتی شرما نے چار اور شفالی ورما نے دو کھلاڑیو ں کو آؤٹ کیا۔بھارتی ٹیم نے پہلی بار آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی افریقا
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔