پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر اور بھارتی پنجابی سینما کے سپر اسٹار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’’سردار جی 3‘‘ بیرونِ ملک باکس آفس پر شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے کامیابی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ریلیز کے بعد فلم نے صرف ایک ہفتے میں 33.6 کروڑ روپے کا بزنس کرلیا ہے، اور اب یہ 50 کروڑ روپے کے بڑے سنگِ میل تک پہنچنے سے محض 16.

4 کروڑ روپے کی دوری پر ہے۔

پہلگام واقعے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث یہ فلم بھارت میں ریلیز نہ ہو سکی۔ اس پابندی کی وجہ فلم میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کی کاسٹنگ بنی، تاہم اس پابندی نے فلم کی کامیابی کے سفر کو روک نہ سکا۔ فلم ’’سردار جی 3‘‘ نے امریکا، کینیڈا، برطانیہ اور پاکستان سمیت بیرونِ ملک شائقین سے زبردست پذیرائی حاصل کی ہے، اور بھارتی نژاد شائقین نے بھی فلم کو بھرپور سراہا ہے۔

ایک ہفتے کے دوران فلم نے 33.6 کروڑ روپے کا مجموعی کاروبار کیا ہے، جسے فلمی تجزیہ کار بہت بڑا نمبر قرار دے رہے ہیں۔ فلم کو خاص طور پر شمالی امریکا میں زبردست ردعمل ملا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی اس کی نمائش کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ مثبت ریویوز اور اچھے تعارف کے باعث فلم کے آئندہ ہفتوں میں بھی شائقین کو سینما کی طرف راغب کرنے کی توقع ہے۔

پنجابی فلم کےلیے 50 کروڑ کا بزنس کرنا کسی بڑی کامیابی سے کم نہیں، اور موجودہ رفتار کے پیشِ نظر ’’سردار جی 3‘‘ یہ سنگِ میل جلد عبور کرلے گی۔ رپورٹ کے مطابق فلم 35 کروڑ روپے کے بجٹ پر بنائی گئی ہے، اور بیرونِ ملک اس کی کامیابی نے فلم کو سرمایہ کاری کے لحاظ سے بھی کامیاب بنا دیا ہے۔ اگر یہ فلم بھارت میں ریلیز ہو جاتی تو ماہرین کے مطابق یہ فلم دنیا بھر میں 100 کروڑ روپے تک باکس آفس بزنس کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

’’سردار جی 3‘‘ کو امر ہندل نے ڈائریکٹ کیا ہے، جبکہ پروڈیوسرز میں گنبیر سنگھ سدھو، من مورڈ سدھو اور دلجیت دوسانجھ شامل ہیں۔ فلم کی کہانی دھیرج رتن اور منیلا رتن نے تحریر کی ہے، اور فلم کو 27 جون 2025 کو تھیٹرز میں ریلیز کیا گیا تھا۔ دلجیت دوسانجھ کے ساتھ فلم میں نیرو باجوہ، جزمین باجوہ اور ہانیہ عامر نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔

’’سردار جی 3‘‘ نہ صرف دلجیت دوسانجھ کے فلمی کیریئر کےلیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہو رہی ہے بلکہ اس نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اگر مواد اور اداکاری مضبوط ہو تو فلم سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دلجیت دوسانجھ ہانیہ عامر کروڑ روپے فلم کو

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے