(محکمہ خزانہ) حیدرآباد اکاوئنٹس آفس میں کروڑوں کا گھپلا
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
فارنزک آڈٹ میں حقیقت عیاں ، اعلیٰ حکام نے تحقیقات کی سفارش کردی ہے
4ارب50 کروڑ کرپشن ، اللہ بچایو جتوئی، نذیر منگی ودیگر خلاف نیب میں جاری
محکمہ خزانہ سندھ کے ماتحت حیدرآباد اکاؤنٹس آفس میں کروڑوں روپے کا ایک اور اسکینڈل سامنے آ گیا، 628 پینشنرز کے محکمے جاننے کے علاہ کروڑوں روپے کی ادائیگی، اعلی حکام نے انکوائری کرنے کی سفارش کر دی۔ جرات کی رپورٹ کے مطابق پفرا کے ٹریننگ مینیوئل کے سندھ کے ملازمین کے لئے کوڈ 40000001 اور 20000030 ہونگے۔ حیدرآباد ٹریزری آفس میں مالی سال 2021-22 کے دوران پینشن فنڈز کی فارینزک آڈٹ کی گئی، جس کے دوران انکشاف ہوا کہ 628 پینشنرز کو 23 کروڑ 70 لاکھ روپے پینشن ڈی سی ایس سسٹم کے ذریعے ادا کی گئی، پینشنرز کو پینشن کی ادائیگی کے لئے آئی ڈیز بنائی گئی لیکن دلچسپ بات یہ ہے آئی ڈیز میں یہ رکارڈ موجود نہیں کہ پینشنرز کون سے محکمہ کے ملازم ہیں، وزارت کا کوڈ 9999999 تحریر کیا گیا ہے جو کہ پفرا کے ٹریننگ مینیوئل میں درج ہی نہیں، کوڈ مشکوک ظاہر ہوتا ہے۔ حیدرآباد ٹریزری آفیس میں پینشنرز کے ریکارڈ کا کوئی فائل بھی موجود نہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ پینشنرز کا محکمہ اور متعلقہ رکارڈ موجود نہ ہونے کے باعث پینشن فنڈز میں شفافیت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ محکمہ خزانہ سندھ اور حیدرآباد ٹریزری آفیس کو مئی 2024 میں آگاہ کیا گیا لیکن افسران نے کوئی جواب نہیں دیا جس پر اعلی حکام نے سفارش کی ہے پینشنرز کا رکارڈ فراہم کیا جائے اور انکوائری کی جائے۔ واضح رہے کہ حیدرآباد ٹریزری آفیس میں 4 ارب 50 کروڑ روپے کی کرپشن پر نیب میں انکوائری جاری ہے جس میں سابق ڈسٹرکٹ اکائونٹ افسر اللہ بچایو جتوئی، نذیر منگی اور دیگر خلاف تحقیقات جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔