WE News:
2026-06-03@04:24:40 GMT

سپریم کورٹ کا پی ٹی سی ایل ملازمین پینشن کیس پر اہم فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

سپریم کورٹ کا پی ٹی سی ایل ملازمین پینشن کیس پر اہم فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی ٹی سی ایل ملازمین کے پینشن کیس پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی سی ایل کے سابقہ ملازمین پینشن کے مکمل حقدار ہیں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس امین الدین خان نے پینشنرز کے حق میں فیصلہ دیا، جب کہ جسٹس عائشہ کے فیصلے سے اختلاف کیا۔

3 رکنی بینچ نے پونے دو سو سے زائد اپیلوں اور درخواستوں کی سماعت کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں نیشنل بینک کے پینشنرز کو سپریم کورٹ سے کیا ریلیف ملا؟

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پی ٹی سی ایل کے مالی مسائل پینشن کی ادائیگی سے ادارے کو بری الذمہ نہیں کرتے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ پی ٹی سی ایل پینشنرز کو 90 دنوں کے اندر پینشن کی ادائیگی کا شیڈول مرتب کرے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت دی کہ پینشن پر نظر ثانی کی جائے اور اس عمل کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ متاثرہ پینشنرز کے جائز مطالبات کا ازالہ کیا جا سکے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وی ایس ایس لینے والے پی ٹی سی ایل ملازمین کو پینشن کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے عدالتی فیصلے سفارشات یا ایڈوائزری نہیں، عمل درآمد ہر صورت یقینی بنانا ہوگا، سپریم کورٹ

یہ فیصلہ پی ٹی سی ایل کے سابقہ ملازمین کے لیے ایک بڑی فتح ہے اور عدالت کی جانب سے پینشن کی ادائیگی کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی سی ایل سپریم کورٹ پینشن کی

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ