بلاول زرداری نے کسی بھی رہنما کو بھارت کے حوالے کرنے کی بات نہیں کی، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارت کے مشیر قومی سلامتی کے بیان حقائق کے منافی قرار دیا اور کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کسی بھی رہنما کو بھارت کے حوالے کرنے کی بات نہیں کی۔
ترجمان دفتر خارجہ، شفقت علی خان نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کسی بھی راہنما کو بھارت کے حوالے کرنے کی بات نہیں کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی مشیر قومی سلامتی نے اپنے بیان میں حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، اور یہ بھارت کے جارحانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان کی عالمی تعلقات میں سرگرمیاںترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اس وقت 32ویں آسیان ریجنل وزارتی فورم میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں، جہاں انہوں نے سائیڈ لائنز پر کئی اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ملائیشیا کے وزیرِ اعظم، سوئٹزرلینڈ، لاو، ترکیہ سمیت متعدد وزرائے خارجہ سے گفتگو کی۔ اس کے علاوہ نائب وزیرِ اعظم نے کوالالمپور میں پاکستانی کمیونٹی سے بھی خطاب کیا۔
پاکستان اور ترکی کے تعلقاتشفقت علی خان نے بتایا کہ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حکان فدان اور وزیرِ قومی دفاع یاشر گلر نے 9 جولائی کو اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر پاک ترک اعلیٰ سطحی تزویراتی تعاون کونسل کے تحت پاک ترک 12 قائمہ کمیٹیوں کی کارکردگی پر جائزہ اجلاس بھی منعقد ہوا۔
پاکستان روس اور پاکستان پولینڈ تعلقاتترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے روسی نائب وزیرِ اعظم الیکسی اوورچک سے ماسکو میں ملاقات کی۔ اس کے علاوہ، پاکستان اور پولینڈ کے درمیان باہمی سیاسی مشاورت کا نواں دور وارسا میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سیکیورٹی، اور دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحالترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کی توہین پر پاکستان کے موقف کو واضح اور بلند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کشمیریوں کے خلاف کھلم کھلا مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں، اور پاکستان اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔
دہشتگردی کی عالمی مہمدفتر خارجہ نے بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے بارے میں پاکستان کے موقف کو دوہرایا اور کہا کہ بھارت نے دنیا بھر میں دہشتگردی اور قتل عام کی عالمی مہم شروع کی ہے۔ علاوہ ازیں افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
ماحولیاتی آلودگی اور چین کے ساتھ تعلقاتترجمان دفتر خارجہ نے ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے پاکستان کے حالات کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اس حوالے سے متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ماحولیاتی آلودگی میں حصہ دیگر ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔
چین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا قریبی دوست اور آہنی بھائی ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کی کوششیںپاکستان اسٹیل ملز کی دوبارہ بحالی کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ سویت یونین کا تحفہ تھا، اور پاکستان اس کی دوبارہ بحالی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
افغان حکومت کے ساتھ تعاونافغان حکومت کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر دہشتگردی اور دیگر چیلنجز پر قابو پانے کی کوشش کرے گی۔
پاکستان کا برکس رکنیت کے لیے عزمپاکستان کے برکس فورم میں رکنیت کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان برکس کا رکن بننے کے لیے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی دفتر خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی دفتر خارجہ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان پاکستان اس پاکستان کے نے کہا کہ حوالے سے انہوں نے قرار دیا بھارت کے کے حوالے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف---فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا کردار واضح ہے، 2018ء میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ حال ہی میں مستونگ میں سیشن جج کا قتل بھی دہشت گردی کی سنگین مثال ہے، دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے۔
انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے تاہم افسوس کے ساتھ کہا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جبکہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں۔
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی میں اہم کامیابیاں حاصل کیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے اور بلوچستان کے عوام نے قیامِ پاکستان اور وفاق کے استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور دیگر صوبوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔
ورکشاپ کے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی چاروں صوبوں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہے اور اب ملک کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔