علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ ہم شہر کے معززین کا احترام کرتے ہیں اور میڑ کو مان دیتے ہیں۔ کیونکہ ہم اتحاد بین المسلمین کے داعی ہیں اور تمام مکاتب فکر کے درمیان باہمی احترام کے قائل ہیں اسلام ٹائمز۔ جیکب آباد کے معزز شہریوں کے وفد نے شہر میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ملت جعفریہ کے پاس میڑ لے کر گئے۔ اس موقع پر علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ ہم شہر کے معززین کا احترام کرتے ہیں اور میڑ کو مان دیتے ہیں۔ کیونکہ ہم اتحاد بین المسلمین کے داعی ہیں اور تمام مکاتب فکر کے درمیان باہمی احترام کے قائل ہیں، مگر یوم عاشورہ کے جلوس پر بلاجواز حملے نے ملت جعفریہ کے دل زخمی کر دیئے ہیں۔ میڑ میں صدر چیمبر آف کامرس میر احمد علی خان بروہی، صدر جیکب آباد شہری اتحاد محمد یاسر خان ابڑو، پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے رہنماء ندیم قریشی، پ ٹ الف کے سابق مرکزی صدر انتظار حسین چھلگری، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ مظفر حسین خان رند، مہران سوشل فورم کے چیئرمین ایڈوکیٹ عبدالحئی سومرو، ڈی ایس پی سٹی، ڈی آئی بی انچارج انیس احمد سومرو، قاری باسط ڈول اور دیگر معززین شامل تھے۔ اس موقع پر ملت جعفریہ کے اکابرین، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی، بزرگ شیعہ رہنماء سید احسان علی شاہ بخاری، ایم ڈبلیو ایم عزاداری ونگ کے صوبائی نائب صدر سید غلام شبیر نقوی، ایم ڈبلیو ایم کے ضلعی صدر نذیر حسین جعفری، ایم ڈبلیو ایم یوتھ ونگ کے ڈویژنل صدر سید کامران علی شاہ، جعفریہ الائنس کے ڈویژنل صدر وزیر حسین مشہدی، انجمن سپاہ علی اکبر ٹرسٹ کے وائس چیئرمین راجہ سید ریاض علی شاہ، استاد خادم حسین برڑو و دیگر موجود تھے۔

اس موقع پر صدر چیمبر آف کامرس میر احمد علی خان بروہی نے کہا کہ یوم عاشورہ کے جلوس پر حملے پر ہمیں شدید دکھ ہوا ہے۔ ہم قبائلی رسم و رواج کے مطابق معززین شہر کی حیثیت سے میڑ کی صورت میں آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ شہر میں امن و بھائی چارے کی فضا برقرار رہے۔ جیکب آباد میں رہنے والا ہر فرد ہمارے لئے قابل احترام ہے، اور ہم ملت جعفریہ کے اکابرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ درگزر کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کو موقع دیں۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ہم شہر کے معززین کا احترام کرتے ہیں اور میڑ کو مان دیتے ہیں۔ کیونکہ ہم اتحاد بین المسلمین کے داعی ہیں اور تمام مکاتب فکر کے درمیان باہمی احترام کے قائل ہیں، مگر یوم عاشورہ کے جلوس پر بلاجواز حملے نے ملت جعفریہ کے دل زخمی کر دیئے ہیں۔ چند شرپسند عناصر شہر کے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پوسٹوں سے ماحول کو خراب کر رہے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

بزرگ شیعہ رہنماء سید احسان علی شاہ بخاری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم چاہتے تو یوم عاشور کو دھرنا دے سکتے تھے، مگر ہم نے شہر کے امن کے لئے قربانی دی۔ ہم قانون اور امن کے دائرے میں رہتے ہوئے گفتگو اور باہمی احترام پر یقین رکھتے ہیں۔ شرپسندوں کے خلاف قانون کی عملداری اور انصاف کا قیام امن کی بنیاد ہے۔ آخر میں شرکاء نے اتفاق کیا کہ شہر میں قیام امن کے لئے انتظامیہ شر پھیلانے والوں پر کڑی نظر رکھے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لائے اور بین المسالک ہم آہنگی، بھائی چارے اور قانون کی بالا دستی کے ذریعے ہی شہر میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے، اور سوشل میڈیا پر شر انگیز پوسٹس چلانے والوں کے خلاف فی الفور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، اور روز عاشور واقعہ کے تناظر میں ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی ملت جعفریہ کے تحفظات دور کریں گے۔ آخر میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے دعائے خیر کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ملت جعفریہ کے باہمی احترام علامہ مقصود جیکب آباد کرتے ہیں ڈومکی نے ہیں اور علی شاہ شہر کے

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں