باجوڑ: مولانا خان زیب کی نماز جنازہ ادا، واقعے کی رپورٹ تیار
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
پشاور:
باجوڑ میں اے این پی کے رہنما مولانا خان زیب کی نماز جنازہ ادا کردی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، ان کے قتل کی رپورٹ سینٹرل پولیس آفس کو ارسال کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایک روز قبل باجوڑ میں فائرنگ سے شہید کیے گئے اے این پی رہنما مولانا خان زیب کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، انہیں ان کے آبائی علاقے ناؤگئی میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ اے این پی کے صوبائی صدر افتخار حسین، سردار حسین بابک، باجوڑ کے اراکین اسمبلی نثار باز، ڈاکٹر حمید، انور زیب خان سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
واقعے کی رپورٹ تیار
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عینی شاہدین کے مطابق 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 5 افراد نے ان پر فائرنگ کی، دہشت گردوں کا ٹارگٹ مولانا خان زیب ہی تھے، دو مقامات کی جیوفینسنگ کی جارہی ہے، فائرنگ سے مولانا خان زیب اور کانسٹیبل شیر زادہ شہید جب کہ تین افراد زخمی بھی ہوئے، واقعہ کی جگہ سے پستول کی گولیوں کے 35 خول برآمد ہوئے۔
پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی خار باجوڑ میں درج کیا گیا ہے جو کہ تھانہ خار کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما مولانا خان زیب کے قتل کی مذمت کی ہے اور پولیس اہلکار کی شہادت پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بلاول نے مولانا خان زیب کے اہل خانہ اور اے این پی کی قیادت سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوراً قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
بلاول بھٹو زرداری کا قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ
بلاول بھٹو نے مزید کہا ہے کہ مولانا خان زیب کا قتل خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے خلاف ایف آئی آر ہے، صوبائی حکومت پُرامن سیاسی سرگرمیوں اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی ایکٹوسٹس کو تحفظ فراہم کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا خان زیب باجوڑ میں اے این پی
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔