اسلام آباد:

وفاقی وزارت مذہبی امور نے ایران، عراق اور شام جانے والے زائرین کے حوالے سے سالار نظام کو ختم کرکے اس کی جگہ زیارات گروپ آرگنائزرز سسٹم متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے زائرین کے حوالے سے 2021 میں یہ پالیسی متعارف کرائی تھی جس پر اب تیزی سے عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزارت مذہبی امور نے کہا کہ حج اور عمرہ کی طرح اب زیارات مقدسہ کے لیے بھی وزارت مذہبی امور میں رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگی، 2021 میں بھی زیارات گروپ آرگنائزرز سے درخواستیں طلب کی گئی تھیں اور اب تک 585 کمپنیز نے اپنی دستاویزات اور کوائف مکمل کیے ہیں۔

ترجمان مذہبی امور نے کہا کہ زیارات گروپس کی رجسٹریشن کے لیے وزارت مذہبی امور نے ایک اور موقع فراہم کیا ہے، گروپ یا کمپنی کی رجسٹریشن کے لیے کردار، مالی شفافیت کے ساتھ میزبان ملک میں بلیک لسٹ نہ ہونا لازم ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ زیارات گروپ آپریٹر کے طور پر کام کا تجربہ، دستاویزی ثبوت، آڈٹ یا مالیاتی بینک کی رپورٹ بھی لازمی ہوگی، نئی کمپنی 10 اگست 2025 سے قبل درخواستیں جمع کرانے کی پابند ہوں گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ نجف و کربلا، مشہد و قم، کاظمین و دمشق کے زائرین کی مشکلات کے پیش نظر یہ اقدام کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: زیارات گروپ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ