سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی یعنی این ایچ اے نے مختلف موٹرویز کے منصوبوں پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔

اجلاس میں پنجاب میں نئی موٹروے کی تعمیر پر سخت سوالات اٹھائے گئے، خصوصاً لاہور سے رائیونڈ تک 16 کلومیٹر طویل مجوزہ موٹروے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

کمیٹی چیئرپرسن قرۃ العین مری نے این ایچ اے حکام سے استفسار کیا کہ کیا یہ موٹروے صرف ایک گھر کے لیے بنائی جا رہی ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس منصوبے کی لاگت صوبائی حکومت برداشت کرے گی یا وفاقی ادارہ این ایچ اے، جس پر حکام نے جواب دیا کہ فی الوقت صرف زمین کا سروے کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 450 کلومیٹر طویل 3 نئے کوریڈورز کہاں تعمیر کیے جائیں گے؟

قرۃ العین مری نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پنجاب میں مزید موٹرویز نہیں بنائی جائیں گی، جب تک دوسرے صوبوں کی رہ جانے والی ضروریات پوری نہیں ہوتیں، انہوں نے کراچی کی بندرگاہ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہاں موٹروے کی تعمیر کیوں نظر انداز کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں سینیٹر منظور کاکڑ نے بلوچستان کی محرومیوں کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو 14 میں سے ایک بھی موٹروے نہیں ملی، کیا بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں، انہوں نے سیلاب میں تباہ ہونے والے ایک ہزار کلومیٹر سڑکوں اور 32 پلوں کا ذکر کرتے ہوئے این ایچ اے سے سوال کیا کہ کتنی سڑکیں بحال کی گئیں۔

سینیٹر منظور کاکڑ کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں پنجاب ترقی کرے، مگر خدا کے لیے باقی صوبوں کو بھی نظر انداز نہ کریں، این ایچ اے حکام نے بتایا کہ پنجاب میں 7 اور خیبر پختونخوا میں 2 موٹرویز موجود ہیں، جبکہ بلوچستان میں فی الحال کوئی منصوبہ شامل نہیں۔

مزید پڑھیں: پی پی اور نون لیگ کا مشاورتی اجلاس، ترقیاتی منصوبوں پر فوری عملدرآمد پر اتفاق

سینیٹ کمیٹی نے اگلے اجلاس میں بلوچستان کے تمام سڑکوں اور انفرا اسٹرکچر پر تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے، کمیٹی چیئرپرسن نے سفارش دی کہ جب تک دیگر صوبوں خصوصاً بلوچستان میں موٹرویز نہیں بنتیں، پنجاب میں مزید موٹرویز پر کام روک دیا جائے۔

یہ اجلاس وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں توازن اور مساوات کے مطالبے کی بازگشت بن کر سامنے آیا ہے، جس میں صوبائی سطح پر ترقیاتی تفاوت کو اجاگر کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

این ایچ اے بلوچستان سیلاب قائمہ کمیٹی قرۃ العین مری منصوبہ بندی منظور کاکڑ موٹرویز نیشنل ہائی وے اتھارٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: این ایچ اے بلوچستان سیلاب قائمہ کمیٹی قرۃ العین مری منظور کاکڑ موٹرویز نیشنل ہائی وے اتھارٹی قرۃ العین مری ایچ اے اجلاس میں کے لیے

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی