Express News:
2026-06-03@02:45:20 GMT

کور کمانڈرز کانفرنس

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

بھارتی حمایت یافتہ اور اسپانسرڈ پراکسیز کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن اور جامع کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر ہے۔ بھارت کی دو طرفہ فوجی کشیدگی میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنا بھارت کی بلاک پولیٹکس کو فروغ دینے کی بے بنیاد کوشش ہے۔ ان خیالات کا اظہار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کورکمانڈرزکانفرنس کے شرکاء سے خطاب میں کیا۔

 فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں پر صائب طور سے اظہار خیال کیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ دوطرفہ فوجی تصادم میں دیگر ملکوں کو شامل کرنا، بھارت کی ناقص سیاسی کوشش ہے۔

درحقیقت معرکہ حق میں ناکامی کی ہزیمت چھپانے کے لیے بھارت نے اپنی پراکسیزکا بے دریغ دوبارہ استعمال شروع کردیا ہے، یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان کو اگر بھارت کے توسیع پسندانہ جارحانہ عزائم سے اب تک کسی چیز نے محفوظ رکھا ہوا ہے تو وہ صرف ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی کا خوف ہے۔ مکار دشمن کو ہر محاذ پر شکست دینے کے لیے ہمیں ایک مربوط اور ٹھوس قومی پالیسی کی ضرورت ہے، جس کی جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح اشارہ دیا ہے۔

 بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بھارت علاقائی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ذریعے بدامنی پھیلانے میں مصروف ہے۔ بھارت ایک طرف اپنے پڑوسیوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سرمایہ خرچ کررہا ہے تو دوسری طرف اندرونی طور پر اقلیتوں کے لیے زندگی مشکل بنا رہا ہے۔

ہمسایہ ممالک میں مداخلت کے ذریعے بنگلہ دیش بنایا گیا، سری لنکا اور نیپال کے اندرونی معاملات میں مداخلت بھی جاری ہے، جب کہ بھارت مسلسل خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔ چین نے بھارت کی منفی حکمت عملی کو جنوبی ایشیائی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی واضح مثال قرار دیا ہے۔

حالیہ پاک بھارت جنگ بندی کی شرائط میں کشمیر، دہشت گردی اور سندھ طاس معاہدے سمیت تمام امور پر بات چیت پر بھارت کی آمادگی شامل تھی۔ بھارتی جارحانہ بیانات کے تسلسل کی بدولت جنگ بندی کمزور ہے، مستقبل میں کسی بھارتی جارحیت کا جواب تحمل سے نہیں بلکہ بھرپور طاقت سے دینا ہوگا۔

بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے سلامتی کونسل کی قرارداد کو رد کردیا تھا، حالانکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی تاریخ تنسیخ نہیں ہوتی، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھارتی پارلیمنٹ میں ’’ اکھنڈ بھارت‘‘ کا نقشہ بھارتی توسیع پسندانہ عزائم ظاہرکرتا ہے۔

حالیہ جنگ میں پاکستان نے بھارت کی شہری آبادی کو نشانہ نہ بنا کر غیر معمولی ذمے داری کا ثبوت دیا، جنگ بندی میں امریکا کا کردارکلیدی رہا، امید ہے کہ امریکا جنگ بندی کے بعد تصفیہ طلب معاملات میں پیشرفت میں کردار جاری رکھے گا، پاکستان اپنی مزاحمتی صلاحیت کو سفارتی طور پر مضبوط کر رہا ہے۔

دوسری جانب افغانستان کی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان ہے، افغانستان میں امن پاکستان کو وسط ایشیا کے ساتھ معاشی طور پر جوڑنے میں معاون ثابت ہوگا۔بھارت، پاکستان کے خلاف ڈس انفارمیشن مہمات کے لیے بدنام ہے، 2020 میں یورپی یونین کی ڈس انفارمیشن لیب کی رپورٹ نے پاکستان کے خلاف بھارت کی خوفناک ڈس انفارمیشن مہم کو بے نقاب کیا تھا، اب ایک بار پھر بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے اپنے دہشت گرد پراکسیز کے ساتھ مل کر اپنے گودی میڈیا کے ذریعے پاکستان کے خلاف ایک مکمل ڈس انفارمیشن مہم شروع کردی ہے۔

گوڈی میڈیا اپنی جارحیت کے بعد افواج پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی اپنی سراسر تذلیل کو چھپانے کی کوشش ہے۔ دنیا ان چالوں کو بخوبی جانتی ہے جو زمین بوس ہو جائیں گی، لیکن بدقسمتی سے بھارتی میڈیا اب شدت پسندوں کو اپنا پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے، پاکستان دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف زیرو ٹالرنس رکھتا ہے، پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے، یہاں یہ بات بھارت کو نہیں بھولنی چاہیے کہ من گھڑت جھوٹ دنیا کو پذیرائی نہیں دے سکتے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت معروف دہشت گردوں کو اپنا میڈیا پلیٹ فارم دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔

 گزشتہ روز فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانیوالی مسافر بس سے 9 مسافروں کو اغوا کرکے قتل کردیا۔ درحقیقت بلوچستان میں بی ایل اے بھارت کی پراکسی کے طور پر لڑ رہی ہے، بھارت اُن کو پیسہ دیتا ہے اور وہ یہاں خونریزی کرتے ہیں، بھارت منظم منصوبے کے ساتھ اسپانسرڈ دہشت گردوں سے بلوچستان میں حملے کروا رہا ہے، مزدوروں کا ناحق قتل، جعفر ایکسپریس ٹرین، اے پی ایس بس خضدار اور سوراب حملہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، حملے کے بعد بھارتی میڈیا پر وار فیئر چلنا شروع ہو جاتی ہے۔

بلوچستان میں ہر حملے کے بعد بھارتی میڈیا اسے خوب اچھالتا ہے، ہر حملے سے پہلے اور بعد میں بھارتی سوشل میڈیا ان خبروں کو پھیلاتا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پوری طرح متحرک نظر آتے ہیں۔ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد بھارتی میڈیا نے جعلی اور اے آئی وڈیوز تک چلائیں، یہ تمام شواہد فتنہ الہندوستان کے ہر حملے کی منظم بھارتی منصوبہ بندی کی طرف نشاندہی کرتے ہیں، فتنہ الہندوستان کے ہر حملے پر بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا دہشت گردوں کے بیانیے کو سپورٹ کرتا ہے۔

آج یہ حقیقت پوری دنیا پر منکشف ہوچکی ہے کہ ہمارے خطے میں سب سے بڑا دہشت گرد بھارت ہے جس نے گزشتہ 75 سال سے بھی زائد عرصے سے کشمیر کے بڑے حصے پر اپنا تسط جما کر وہاں اپنی فوجوں کے ذریعے نہتے کشمیری عوام کے خلاف بدترین ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے خلاف کشمیری عوام آواز بلند کرتے ہیں اور اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ اپنے حق خودارادیت کا تقاضا کرتے ہیں تو ان کی جدوجہد آزادی کو بھارت سرکار کی جانب سے دہشت گردی کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے جو درحقیقت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

آج بھارت پر ہذیانی کیفیت طاری ہے جس نے مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا ہر ہتھکنڈہ آزمانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کے مظالم جتنے زیادہ عالمی فورموں پر بے نقاب ہوتے ہیں، وہ اتنی ہی شدت کے ساتھ کشمیریوں کی آواز دبانے اور ان پر دہشت گرد ی کا ٹائٹل لگوانے کی سازشوں میں مگن نظر آتا ہے۔ دراصل بھارت معرکہ حق میں تاریخ کی بدترین شکست کھانے کے بعد اب تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ اُسے یہ تاریخی ہزیمت اب تک ہضم نہیں ہوسکی ہے۔ وہ خود ساختہ برتری کے زعم سے اب تک باہر نہیں آسکا ہے۔

وہ تو ماضی کو فراموش کرتے ہوئے پاکستان کو ترنوالہ سمجھنے کی غلطی کر بیٹھا تھا۔ اُس نے اپنے تئیں تصورکر لیا تھا کہ اپنے جدید ہتھیاروں، طیاروں، میزائلوں اور عددی عسکری برتری کے ذریعے پاکستان کو زیرکرنے میں کامیاب رہے گا، لیکن قدرت کوکچھ اور ہی منظور تھا۔ قدرت کو حق اور سچ کو فتح یاب اور جھوٹ کو بے نقاب اور رُسوا کرنا تھا اور ایسا ہوا بھی۔ جھوٹ کے بل پر جیت کا خواب دیکھنے والا بھارت اوندھے منہ گرا اور اب تک سنبھل نہیں سکا ہے۔ پاکستان نے اخلاقی، سیاسی، سفارتی اور جنگی ہر محاذ پر بھارت کو بُری مات دی ہے۔

شکست کا داغ بھارت کو کسی پل چین لینے نہیں دے رہا۔ معرکہ حق میں چاروں شانے چت ہونے کے بعد بھارت اول فول بکنے میں لگا ہوا ہے۔ بھارت کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اپنی خفت مٹانے کے لیے ہر ممکن جتن کر رہا ہے، لیکن ہاتھ نامُرادی ہی آرہی ہے۔ پاکستان کے خلاف برازیل میں منعقدہ برکس اجلاس میں مذمتی جملے ادا کروانے کے لیے اس نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا، لیکن یہاں بھی اسے بدترین سفارتی ناکامی ہاتھ لگی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا فرمانا بالکل بجا ہے کہ جنونی بھارت اپنی ناکامی کی جھینپ مٹا رہا ہے۔ آرمی چیف نے بالکل درست کہا کہ جنگیں درآمد شدہ فینسی جنگی سامان یا سیاسی نعروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ یقین محکم، پیشہ ورانہ قابلیت، آپریشنل شفافیت کے ذریعے جیتی جاتی ہیں۔

بھارت اور اس کی فوج میں ان تمام خصوصیات کا فقدان ہے۔ بزدل کبھی فتح یاب نہیں ہوتے۔ جھوٹ پر چلنے والا بھارت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے پاکستان کو کبھی زیر نہیں کر سکتا۔ وہ ہمیشہ شکست کے زخم کھاتا اور انھیں چاٹتا رہے گا۔ پاکستان تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔ اسے دُنیا کی سب سے بہترین افواج کا ساتھ میسر ہے۔

سچ اور حق پر چلتا پاکستان ہمیشہ بزدل بھارت کو اسی طرح شکستِ فاش دے گا۔اس تناظر میں آج سب سے زیادہ بھارت کے جنونی ہاتھ روکنے اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بند باندھنے کی ضرورت ہے۔ عالمی قیادتوں کو بہرصورت بھارت کے ہاتھ روکنا ہوں گے بصورت دیگر دہشت گردی کے خاتمے کی کوئی بھی علاقائی اور عالمی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کے خلاف توسیع پسندانہ ڈس انفارمیشن بلوچستان میں بھارتی میڈیا کے بعد بھارت معاملات میں پاکستان کو میں مداخلت کر رہا ہے بھارت کو کرتے ہیں بھارت کی کے ذریعے بھارت کے کے ساتھ ہر حملے بھارت ا کے لیے اور اس

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ