ضلع غربی کے عوام کا دیرینہ مسئلہ پانی ہے‘مرتضیٰ وہاب
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع غربی کی مختلف یوسیز میں سڑکوں کی مرمت، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور پیور بلاکس بچھانے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس اہم ترقیاتی منصوبے پر تقریباً 122 ملین روپے لاگت آئے گی جس کی منظوری حکومت کی جانب سے دی جا چکی ہے، منصوبے کے تحت 1 لاکھ 30 ہزار مربع فٹ پیور بلاکس مختلف سڑکوں پر بچھائے جائیں گے جبکہ 1 لاکھ 99 ہزار 700 مربع فٹ سڑکوں کی استر کاری کی جائے گی، سیوریج نظام کی بہتری کے لیے مختلف قطر کی لائنیں بھی بچھائی جائیں گی تاکہ عوام کو بہتر اور پائیدار انفرااسٹرکچر فراہم کیا جا سکے۔میئر کراچی نے کہا کہ ضلع غربی کے عوام کا دیرینہ مسئلہ پانی ہے جس کے مستقل حل کے لیے حب ڈیم سے 100 ایم جی ڈی پانی لانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔علاوہ ازیںمیئر کراچی نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام تمام اسپتالوں میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں آنکھوں کی ایک قابلِ علاج بیماری ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی (ROP) سے بچاؤ کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) اور کلینیکل گائیڈ لائنز پر فوری طور پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، یہ ہدایات پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کی جانب سے موصول ہونے والی ایک باضابطہ درخواست کے بعد جاری کی گئیں جس میں اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا لہٰذا میئرکراچی نے اس مسئلے کو انتہائی عوامی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ اسپتالوں کے شعبہ جات میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) کے فوری نفاذ کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔
ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔