سڑکوں کی بحالی کیلئے مشینیں تیار رکھیں، این ڈی این اے نے درجنوں جگہوں پر لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے گلگت بلتستان اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں ممکنہ بارشوں کے نتیجے میں ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ کی "توقع" ظاہر کی ہے۔
این ڈی ایم اے کو خدشہ ہے کہ گلگت، سکردو، ہنزہ، استور، دیامر، گانچھے اور شگر میں لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ مظفرآباد، نیلم ویلی، راولا کوٹ، حویلی اور باغ میں بھی شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ہےْ
حفیظ سنٹر لاہور میں فائر ریسکیو آپریشن ؛ سیکرٹری ایمرجنسی سروسز کا فائر فائٹرز کو خراج تحسین
اپر کوہستان (RD 200-240) میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ دیامر و استور روڈ (340-380) کے علاقے ممکنہ لینڈ سلائیڈ نگ کی زد میں ہوں گے۔
این ڈی ایم اے نے گلگت روڈ( 400) اور نگر روڈ ( 460) میں لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور اس کے ساتھ شاہراہ قراقرم (KKH) کے متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بتایا ہے، این ڈی ایم اے کو خدشہ ہے کہ جگلوٹ اسکردو روڈ (JSR) کے مختلف مقامات، خصوصاً روندو کے ملحقہ علاقوں میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہو گی۔
شکر گڑھ میں درمیانے درجے کا سیلاب، زمینی رابطہ منقطع
این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ سڑکوں کی فوری بحالی کے لئے مشینری تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لینڈ سلائیڈنگ کا ڈی ایم اے
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔