ملک میں شدید مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی،سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، پنجاب، اور بالائی علاقوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں، جن سے طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اور گردونواح میں بھی بارش کی پیشگوئی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے اضلاع دیر، چترال، سوات، ملاکنڈ، بونیر، شانگلہ، باجوڑ، کوہستان، مانسہرہ، کرم، خیبر، اورکزئی، بنوں، ڈی آئی خان اور دیگر علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔پشاور میں کم سے کم درجہ حرارت 24 اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، جبکہ مالم جبہ میں سب سے کم 16 ڈگری اور کالام میں 17 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ کوئٹہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40، قلات میں 33، ژوب میں 37، سبی میں 39 اور تربت میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق 11 جولائی سے 17 جولائی تک ملک کے کئی حصوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔