6 ارب ڈالر کے ریفائنری منصوبوں کی بحالی، ایس آئی ایف سی کے تحت توانائی شعبے میں اہم اصلاحات متوقع
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
پاکستان میں توانائی کے شعبے میں 6 ارب ڈالر مالیت کے ریفائنری منصوبوں کی بحالی کی راہ ہموار ہونے لگی ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کی سفارش پر حکومت نے براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی میں ترمیم کی ہدایت جاری کی ہے، جس کا مقصد پرانے ریفائنری منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق، 7 سال کے لیے ٹیکس پالیسی میں استحکام کی ضمانت دیے جانے پر غور جاری ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ریفائنری اپ گریڈیشن کی راہ ہموار ہو گی۔
مزید پڑھیں:ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاک سعودی تجارتی تعلقات نئی بلندیوں پر
اجلاس میں سیلز ٹیکس اصلاحات، پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور ڈیزل کی غیر ضروری درآمدات پر قابو پانے کے لیے بھی تجاویز زیر غور آئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر رابطے قائم ہوئے ہیں، جس سے نہ صرف پالیسی سازی اور اس پر عملدرآمد میں بہتری آئی ہے بلکہ ملکی معیشت میں استحکام اور دیرپا ترقی کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق، حکومت توانائی کے شعبے میں جدت، مالی مراعات اور شفاف پالیسی اصلاحات کے ذریعے ترقی کے عزم پر کاربند ہے، اور ایس آئی ایف سی کی معاونت سے یہ عمل مزید تیز ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
SIFC آئل ریفائینری ایس آئی ایف سی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئل ریفائینری ایس آئی ایف سی ایس آئی ایف سی کے لیے
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔