پی ایس ایل پھر آئی پی ایل کو ٹکر دینے کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
لاہور:پی ایس ایل پھر آئی پی ایل کو ٹکر دینے کیلیے تیار ہے، پی سی بی نے 11ویں ایڈیشن کی تاریخوں کا فیصلہ کرلیا، 2 نئی فرنچائزز سمیت مجموعی طور پر 8 ٹیمیں آئندہ سال اپریل اور مئی کے دوران ایکشن میں ہوں گی جبکہ میچز کے ساتھ وینیوز میں بھی اضافہ ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے پی ایس ایل 11 کی تاریخیں فائنل کر لیں، 8 ٹیموں کے ساتھ ایونٹ آئندہ سال اپریل اور مئی میں ہوگا، یوں ایک بار پھر پاکستانی لیگ بھارتی لیگ کو ٹکر دے گی، میچز کے ساتھ وینیوز میں بھی اضافہ ہوگا۔
گزشتہ دنوں منعقدہ میٹنگ میں فرنچائزز نے مطالبہ کیا تھا کہ اس حوالے سے جلد اعلان کیا جائے، اس سے قبل دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کی ونڈو رکھی گئی تھی تاہم 2 نئی فرنچائزز سے معاہدوں اور دیگر اہم امور کی وجہ سے اتنی جلدی انعقاد ممکن نہیں رہا۔
سی ای او سلمان نصیر نے موجودہ ٹیموں کو آگاہ کر دیا کہ ونڈو طے ہے جولائی میں ہی اس حوالے سے حتمی اعلان سامنے آ جائے گا۔
فرنچائزز نے دسویں ایڈیشن کے چند پچز کی معیار پر بھی سوال اٹھائے، ان کے مطابق ابتدائی میچز کا یکطرفہ ثابت ہونا ایونٹ کیلیے اچھا نہیں رہا تھا، کراچی سمیت ہر وینیو پر ٹی ٹوئنٹی کیلیے سازگار ٹریکس بنائے جائیں۔
یاد رہے کہ پی ایس ایل کا انعقاد روایتی طور پر فروری اور مارچ میں ہوتا ہے مگر رواں برس ملک میں منعقدہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کی وجہ سے ایونٹ اپریل اور مئی میں ہوا تھا۔ آئندہ برس فروری اور مارچ میں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ شیڈول ہے، رواں برس پاکستان ٹیم کی نومبر میں سری لنکا کے خلاف 3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل ہوم سیریز ہوگی، دسمبر اور جنوری کی ونڈو پی ایس ایل کیلیے خالی رکھی گئی تھی۔
آئندہ سال فروری میں آسٹریلوی ٹیم 3 ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کے لیے دورہ کرے گی۔ فروری اور مارچ میں ورلڈ کپ کے بعد مارچ میں ہی آسٹریلیا کو 3 ون ڈے میچز کیلیے دوبارہ آنا ہے۔ اسی ماہ کے اواخر اور اپریل میں پاکستانی ٹیم کا 2 ٹیسٹ، 3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز کیلیے دورہ بنگلا دیش ہوگا۔
اپریل اور مئی میں زمبابوے کی ٹیم کا 3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹی 20 میچز کے لیے پاکستان ٹور شیڈول ہے۔ تاہم، اپریل اور مئی میں پی ایس ایل کرانے کے لیے پی سی بی کو زمبابوے سے ہوم سیریز ری شیڈول کرنا ہوگی۔
دوسری جانب فرنچائزز کی ویلیویشن کیلیے آڈٹ فرم کی تقرری کا اشتہار فائنل کر لیا گیا، بڈ کمیٹی نے اس کی منظوری دے دی، آئندہ ہفتے اجرا ممکن ہے، منتخب فرم کا 15 دن میں تقرر کرنے کے بعد اسے کام کیلیے ایک سے دو ماہ دیے جائیں گے۔
دو نئی ٹیموں کے حوالے سے بھی کرکٹ بورڈ حکام نے بعض دلچسپی رکھنے والی پارٹیز سے پھر رابطہ کرلیا، ویلیویشن کے بعد اس حوالے سے کام میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے، پاکستان سے باہر کی بھی بعض شخصیات بھی لیگ میں ٹیم خریدنے کی خواہشمند ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اپریل اور مئی میں پی ایس ایل ٹی ٹوئنٹی حوالے سے کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔