جیکب آباد ،سرکاری ملازمین کی بیگمات نے مستحق خواتین امداد ہڑپ کرلی
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد ضلع کے 1304ملازمین کی بیگمات نے مستحقین کی امداد ہڑپ لی ،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 16کروڑ 72لاکھ کی وصولی شروع ،محکمہ تعلیم کے تدریسی و غیر تدریسی عملے سے امدادی رقم کی وصولی کے لئے ڈی ای او کے متعلقہ ڈی ڈی اوز کو احکامات جاری ،ریونیو ،صحت ،پولیس اور دیگر محکموں کے ملازمین سے وصولی کے متعلقہ افسران کی مجرمانہ خاموشی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد ضلع کے مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین کی بیگمات نے مستحقین کی امداد کو بھی نہیں بخشا ہے ضلع کے 1304ملازمین سے 16کروڑ 72لاکھ 29ہزار سے زائد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقم کی وصوطگلی کے وفاقی حکومت کی جانب سے احکامات کے بعد سرکاری ملازمین میں کھلبلی مچی ہوئی ہے محکمہ تعلیم ضلع جیکب آباد کے 642 ملازمین پر 7کروڑ 86لاکھ 22ہزار اور68 پنشنر سے 79لاکھ 39 ہزار کی امدادی رقم کی وصولی کے لئے ڈی او پرائمری سید ریاض شاہ اور ڈی او سیکنڈری محمد اسماعیل برڑو نے تحریری طور پر تعلقہ ایجوکیشن افسر میل فمیل ٹھل ،گڑھی خیرو اور جیکب آباد کو احکامات جاری کئے ہیںامدادی رقم وصول کرنے والوں میں محکمہ ریونیو، تعلیم، صحت، زراعت،پولیس،قانون ،آبپاشی ، خوراک ،ورکس اینڈ سروسز ،بلدیات ،پبلک ہیلتھ کے ملازمین شامل ہیں محکمہ تعلیم کے کسی بھی محکمے کے افسران کی جانب سے بسپ کی امدادی رقم کی وصولی کے لئے اقدامات سامنے نہیں آئے مستحقین کی امدادی لینے والوں میں گریڈ ایک سے 20ویں گریڈ تک کے ملازمین نائب قاصد ،چوکیدار ،بیلف، وارڈ سرونٹ ، ڈرائیور ، بیلدارکوٹوار، آیا،پمپ آپریٹر، دھوبی،مالی سے لیکر اے ایس آئی ،کلرک ،ہیڈ کانسٹیبل،پٹواری ،پرائمری اسکول ٹیچر،ہائی اسکول ٹیچر ،فوڈ سپروائیزر،سب انجینئر، ویکسینیٹر ، اورینٹل ٹیچر، کلرک ، سپریڈنٹ،فیلڈ اسسٹنٹ ،داروغہ، ہیڈ ماسٹر ، ٹائپسٹ ، خلاصی ،ورک مستری، ورکشاپ انسٹرکٹر کی بیگمات اور مڈ وائف ،لیڈی ہیلتھ ورکرشامل ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امدادی رقم کی کے ملازمین جیکب ا باد کی بیگمات کی امدادی وصولی کے کی وصولی
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔