شکر قندی کی افادیت پر ایک تفصیلی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
شکر قندی ایک نہایت مفید اور غذائیت سے بھرپور غذا ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں عام دستیاب ہے۔ اس میں موجود غذائی اجزا جیسے فائبر، پوٹاشیم، وٹامنز، بیٹا کیروٹین، آئرن، کیلشیئم، میگنیشم اور دیگر اہم عناصر انسانی صحت کے لیے بے حد فائدہ مند ہیں۔ ایک اوسط شکر قندی میں تقریباً 108 کیلوریز، 2 گرام پروٹین، 3 گرام چکنائی، 18.
شکر قندی کا استعمال انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کے لیے یہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ اس میں موجود فائبر نہ صرف خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ذیابیطس کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔ فائبر قبض کی روک تھام کرتا ہے اور نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے، جبکہ آنتوں کے کینسر کے خطرے کو بھی گھٹاتا ہے۔
پوٹاشیم کی موجودگی دل کی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔ پوٹاشیم بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے، شریانوں کو صحت مند رکھنے اور امراض قلب سے بچانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ بیٹا کیروٹین، جو جسم میں جا کر وٹامن اے میں تبدیل ہوتا ہے، ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ ہے جو خلیات کو نقصان سے بچاتا ہے اور مختلف اقسام کے کینسر سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ بینائی کو بہتر بناتا ہے، خاص طور پر رات کی بینائی اور آنکھوں کے انفیکشن سے بچاؤ میں مؤثر ہے۔
شکر قندی وٹامن سی کا بھی اچھا ذریعہ ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے اور آئرن کے جذب کو بہتر بناتا ہے، یوں خون کی کمی سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ وٹامن سی کے ذریعے جسم عام موسمی بیماریوں کا بھی بہتر مقابلہ کر سکتا ہے۔
شکر قندی میں موجود کولین دماغی صحت کے لیے مفید ہے، یہ اعصابی نظام کی معاونت کرتا ہے، یادداشت کو بہتر بناتا ہے اور پٹھوں کی حرکت کو سہارا دیتا ہے۔ کولین دمہ اور دیگر ورمی بیماریوں کے خلاف بھی مدافعت فراہم کرتا ہے۔ فائبر کی موجودگی دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے کیونکہ یہ نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جلد کے لیے بھی شکر قندی بہت فائدہ مند ہے۔ اس میں موجود بیٹا کیروٹین جلد کو سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچاتا ہے، جلد کی لچک کو بہتر بناتا ہے اور جھریوں کو کم کرتا ہے۔ وٹامن اے کی موجودگی خلیات کی نشوونما کو بہتر بناتی ہے اور جلد کو صحت مند رکھتی ہے۔
مجموعی طور پر شکر قندی ایک مکمل اور فائدہ مند غذا ہے جو صحت کے کئی پہلوؤں پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ تاہم، کسی بھی تبدیلی یا باقاعدہ استعمال سے قبل معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ انفرادی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحیح فیصلہ کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں مدد دیتا ہے فائدہ مند کرتا ہے ہے اور صحت کے کے لیے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم