افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بندش کے بعدعوامی ردعمل اور معیشتی خدشات
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بندش کے بعدعوامی رد عمل اور ان سے جڑے روزگارسرحدی علاقوں کے عوام، کرایہ دار ڈرائیورز، چھوٹے تاجروں اور روزگار سے وابستہ افراد پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لاجسٹکس کمپنیز، ٹرانسپورٹر ایسوسی ایشنز اور بارڈر ٹریڈ یونینز سے تفصیلی تاثرات اور امکانات (مثلاً وقتی روزگار میں کمی، نرخوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خرابی) حاصل کرنا ضروری ہوگا تاکہ معاشی نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی شراکت داروں، عالمی اداروں یا این جی اوز کے ذریعے انسانی ہمدردی کی ضروریات کی تشخیص بھی اہم ہوگی، خاص طور پر اگر خوراک یا ادویات کی ترسیل رکاوٹ کا شکار ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔