بھارت کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش میں توسیع کر دی۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے نوٹم جاری کر دیا جس کے مطابق فضائی حدود بھارت کے لیے 23 اکتوبر تک بند رہے گی۔
نوٹم کے مطابق بھارت کے رجسٹرڈ طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود بدستور بند رہے گی، بھارتی ایئرلائنز کے زیرِ ملکیت یا لیز پر لیے گئے طیاروں کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔
پاکستانی فضائی حدود بھارتی فوجی پروازوں کے لیے بھی بند رہے گی، پابندی 15 اکتوبر سے 24 نومبر 2025 تک نافذ رہے گی۔
واضح رہے کہ رواں سال مئی میں بھارت کی جانب سے پاکستان کی حدود پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد پاکستان نے فضائی حدود بھارت کے لیے بند کر دی تھی۔
فضائی حدود کی مسلسل بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو اربوں روپے کا نقصان کا سامنا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان بھارت کے لیے رہے گی
پڑھیں:
اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے اور دنیا میں جاری بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے مسلسل مصالحتی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان روابط و مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہااور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں جانب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی اور آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلجیم میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نائب صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سفیر کو ہدایت کی کہ وہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کی پیروی جاری رکھیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کریں۔