صحافتی ویری فکیشن، — جعلی تصویروں کو رپورٹ اور جانچنے کے طریقے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
1۔ تصویر کی الٹی سرچ کریں: گوگل ایمیج سرچ یا دیگر ریورس امیج ٹولز سے دیکھیں کہ تصویر پہلے سے کہیں شائع تو نہیں ہوئی۔
2۔ میٹا ڈیٹا چیک کریں: اگر ممکن ہو تو EXIF/پوسٹ میٹا ڈیٹا نکالیں مگر یاد رکھیں کہ بہت سی سوشل پوسٹس میں میٹا ڈیٹا ہٹا دیا جاتا ہے۔
3۔ ویڈیو/امیج کا فریم بائے فریم تجزیہ: اے آئی ساختہ تصاویر یا ویڈیوز میں غیر فطری کنارے، روشنی کی بے قاعدگیاں یا متضاد شفافیت ہو سکتی ہے۔
4۔ اصل سورس تلاش کریں: پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹ کی تاریخ، پیٹرن اور پہلے کے مواد کو دیکھیں—نئے یا مشتبہ اکاؤنٹس اکثر پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
5۔ متعدد آزاد ذرائع سے تصدیق کریں: یا تو سرکاری اعلامیے، بارڈر پر موجود تاثر دینے والے صحافتی رپورٹس یا بین الاقوامی ایجنسیز کی رپورٹنگ سے ملائیں۔
6۔ ٹیکنالوجیکل مدد: امیج فورینسک ٹولز اور اے آئی ڈیٹیکشن سافٹ ویئر کا استعمال مفید رہتا ہے، مگر ان کے نتائج بھی قطعی نہیں ہوتے—ہمیشہ انسانی احتیاط برتیے۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی کیلئے خطرے کی گھنٹی
اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں کراچی سمیت کئی بڑے شہروں میں اربن ہیٹ ایفیکٹ کے شدید خطرے سے خبردار کیا گیا ہے،
اس رپورٹ نے اس بات پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں کہ مالی طور پر مشکلات کا شکار حکومت شہری ماحولیاتی آفات کو کیسے روکے گی یا ان کے اثرات کو کیسے کم کرے گی۔
اقوام متحدہ کی اکنامک اینڈ سوشل کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (UNESCAP) نے اپنی ایشیا پیسیفک ڈیزاسٹر رپورٹ 2025 میں کراچی کو ایشیا پیسیفک کے ان9 بڑے میگا شہروں میں شامل کیا ہے جن کے مستقبل میں نمایاں طور پر زیادہ گرم ہونے کا امکان ہے۔
اس کی بڑی وجہ تیز رفتار اور غیر منصوبہ بند شہری توسیع اور کمزور انفراسٹرکچر ہے، جو اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ کو جنم دیتا ہے یعنی گنجان تعمیرات، کنکریٹ اور اسفالٹ گرمی کو جذب اور محفوظ رکھتی ہیں، جس کے نتیجے میں شہر کے درجہ حرارت میں آس پاس کے نسبتاً کم ترقی یافتہ علاقوں کے مقابلے 2 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ شہری بحران تمام شہریوں پر یکساں اثر نہیں ڈالے گا بلکہ بچوں، بزرگوں اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں کے لیے صورتحال زیادہ سنگین ہوگی خاص طور پر جب وہ کم آمدنی والے گنجان آباد علاقوں میں رہتے ہوں۔ جبکہ اس کے برعکس ان حالات سے فائدہ اٹھانے والے زیادہ ترانتہائی امیر افراد اور کاروباری ادارے ہیں، جو ممکن ہے خود ان شہروں میں رہتے بھی نہ ہوں۔مقامی آبادی کے اندر بھی امتیاز واضح ہے۔
سرسبز اور بہتر منصوبہ بند ہاؤسنگ سوسائٹیز میں رہنے والوں پر بڑھتی حرارت کا اثر شاید کم پڑے، مگر شہر کے گنجان اور پسماندہ حصوں میں رہنے والے شہری بجلی کی عدم فراہمی، پانی کی کمی اور صحت کی سہولتوں کا فقدان کے سبب موسم کی سنگینی کازیادہ سامنا کریں گے۔ رپورٹ نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ ملک بھر میں ممکنہ خشک سالی شہری علاقوں کو مزید گرم کرے گی، پانی کی دستیابی کم کرے گی اور زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے باعث کئی زرخیز علاقے بنجر ہو سکتے ہیں اور وہاں موجودہ فصلیں اگانا ممکن نہیں رہے گا۔
اگرچہ پاکستان اکیلے موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو نہیں پا سکتا، لیکن اسلام آباد اور صوبائی حکومتوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ سائنس پر مبنی طویل مدتی حکمتِ عملی اختیار کریں، جس میں انتہائی گرمی کو شہری منصوبہ بندی اور آفات کے خطرات سے نمٹنے کے مرکزی نکتے کے طور پر رکھا جائے۔ اس کے لیے ہیٹ ویو سے متعلق ابتدائی خبردار کرنے کے نظام میں سرمایہ کاری، صحت عامہ کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور فطرت پر مبنی حل جیسے شہروں میں سبز مقامات کا اضافہ ضروری ہیں تاکہ اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ کو کم کیا جا سکے،لیکن کیا ہمارے وزیراعظم اور خاص طورپر وزیراعلیٰ سندھ ایسا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭