شہریوں کا ڈیٹا چوری کرنے والی ویب سائٹ بند
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی سائبر سکیورٹی ٹیم نے شہریوں کے ساتھ دھوکہ دہی میں ملوث جعلی ویب سائٹ بند کر دی۔
ترجمان نادرا کے مطابق سائبر سکیورٹی ٹیم نے idtracking.online نامی جعلی ویب سائٹ بند کر دی جو اتھارٹی کے نام کا غلط استعمال کرتے ہوئے شہریوں کی ذاتی معلومات حاصل کر رہی تھی۔
ترجمان نے بتایا کہ نادرا نے جعلی ویب سائٹس کے خلاف اپنی مہم کے تحت گزشتہ ایک سال میں 100 سے زائد ویب سائٹس بند کی ہیں جو اتھارٹی کے نام کا غلط استعمال کر رہی تھیں۔
پاکستان نے افغانستان سے تاجکستان سرحد پر چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ شہریوں کی معلومات کیلیے نادرا کے سوشل میڈیا کے ذریعے وقتاً فوقتاً پیغامات جاری کیے جاتے ہیں اور اتھارٹی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ پیغام مستقل موجود ہے کہ شہری کسی ایسی ویب سائٹ پر اپنی ذاتی معلومات فراہم نہ کریں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ نادرا کی صرف ایک ہی آفیشل ویب سائٹ www.
شہر کی فضا بدستور آلودہ،سول سیکرٹریٹ میں آلودگی کی شرح خطرناک حد سے تجاوز کر گئی
نادرا نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی دوسری ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر اپنی ذاتی معلومات فراہم نہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ویب سائٹ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔