لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں ایس آئی اے کے چھاپے
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جابرانہ کارروائیاں مقبوضہ جموں و کشمیر میں امن اور حالات معمول کے مطابق ہونے کے بھارتی حکومت کے جھوٹے دعوئوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نئی دہلی کے زیر کنٹرول ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے بھارتی پیراملٹری فورس اور پولیس کی مدد سے مختلف اضلاع میں متعدد گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشیاں لیں۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد شوپیاں، کولگام، بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں بیک وقت چھاپے مارے گئے۔ مکینوں نے بتایا کہ بھارتی فورسز نے پورے محلوں کو محاصرے میں لے کر گھروں کی تلاشی لی اور خواتین اور بزرگوں سمیت مکینوں کو ہراساں کیا۔ مقامی لوگوں نے ان کارروائیوں کو مقبوضہ علاقے میں اختلافی آوازوں کو دبانے اور ہراساں کرنے کی بھارت کی وسیع پالیسی کا حصہ قرار دیا۔ یہ چھاپے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون "یو اے پی اے" کے تحت مارے گئے۔ انسانی حقوق کے گروپ ان کارروائیوں کو مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیریوں کو اجتماعی سزا دینے کی کوشش قرار دے رہے ہیں تاکہ غیر قانونی قبضے کے خلاف مزاحمت کو روکا جا سکے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جابرانہ کارروائیاں مقبوضہ جموں و کشمیر میں امن اور حالات معمول کے مطابق ہونے کے بھارتی حکومت کے جھوٹے دعوئوں کو بے نقاب کرتی ہیں اور فوجی محاصرے کے تحت خوف اور جبر کے ماحول کو اجاگر کرتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔