یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مَرے کو مارے شاہ مَدار۔ مہنگائی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی دعوؤں کے علی الرغم حکومت کا یہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ دس جولائی سے یوٹیلیٹی اسٹورز مکمل بند کردیے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین کو ادارے کی بندش پر وی ایس ایس پیکیج کی فراہمی کی ہدایت کر دی ہے۔ تمام ملازمین کو رضاکارانہ طور پر علٰیحدہ ہونے کا پیکیج دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔ مارچ 2025 میں حکومت نے خسارے کا شکار 1700 یوٹیلٹی اسٹورز بند اور کنٹریکٹ و ڈیلی ویجز ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ملک میں جس طرح مہنگائی کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے ایسے میں یوٹیلیٹی اسٹورز غریب طبقے کے لیے ایک ایسی سہولت تھی جہاں سے وہ سبسڈی کے تحت آٹا، دال، چاول، چینی اور اشیائے صرف نسبتاً سستے داموں خرید لیتے تھے، ان اسٹورز کی بندش سے اب لاکھوں گھرانے اشیائے صرف مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہوں گے جس سے ان کے مسائل و مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت ان اسٹورز کی کارکردگی بہتر کرنے کے اقدامات کرتی تاکہ غریب عوام اس سے مستفیض ہوتے رہتے، حکومت کے اس فیصلے کا براہ راست اثر مہنگائی کے ہاتھوں ستائے ہوئے عوام پر ہوگا، حکومت کو عوام کے مسائل و مشکلات کا ادراک کرنا چاہیے تھا۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یوٹیلیٹی اسٹورز
پڑھیں:
برطانیہ : مٹاپے سے نمٹنے کے لیے مختلف مشروبات پر ٹیکس کا فیصلہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ میں مٹاپے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ملک شیک، پیکڈ ملک اور مختلف سافٹ ڈرنکس پر نیا شوگر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ اس فیصلے کا مقصد شہریوں میں بڑھتے ہوئے وزن، بالخصوص بچوں میں مٹاپے کی شرح کو کم کرنا ہے۔نئے قانون کے تحت مشروبات میں چینی کی موجودہ حد 100 ملی لیٹر میں 5 گرام سے کم کرکے 4.5 گرام مقرر کردی گئی ہے۔ اس حد سے زیادہ چینی رکھنے والے تمام پیکڈ ڈرنکس اور ملک شیک پر شوگر ٹیکس لاگو ہوگا۔برطانوی وزیرِ صحت ویس اسٹریٹنگ نے پارلیمان میں بتایا کہ مٹاپا بچوں کو صحت مند زندگی کے آغاز سے محروم کرتا ہے اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مٹاپے سے متاثرہ افراد پوری زندگی مختلف بیماریوں کا شکار رہتے ہیں، جبکہ ان کے علاج پر حکومت کے اربوں پاؤنڈ خرچ ہوتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کیفے اور بازار میں ملنے والے اوپن کپ ڈرنکس پر یہ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ نئے شوگر ٹیکس کا اطلاق یکم جنوری 2028 سے ہوگا۔