لندن فلم فیسٹیول میں سرپرائز انٹری، بروس اسپرنگسٹین کی اپنی کہانی پر مبنی فلم کی رونمائی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
امریکی راک اسٹار بروس اسپرنگسٹین اچانک لندن فلم فیسٹیول کے ریڈ کارپٹ پر نمودار ہوئے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی پر بننے والی نئی سوانحی فلم کے اداکاروں اور فلم سازوں کی حوصلہ افزائی کی۔
اداکار جیریمی ایلن وائٹ نے متعدد گریمی ایوارڈز جیتنے والے بروس اسپرنگسٹین کا کردار ادا کیا ہے، تاہم فلم ’اسپرنگسٹین: ڈلیور می فرام نو ویئر‘ ان کے کیرئیر کی کامیابیوں کے بجائے موسیقی کے پیچھے چھپے انسان کی اصل کہانی بیان کرتی ہے۔
فلم کے ہدایتکار اور شریک مصنف اسکاٹ کوپرہیں، جبکہ کہانی وارن زینز کی اسی نام کی کتاب پر مبنی ہے، یہ فلم ایک نوجوان بروس اسپرنگسٹین کی جدوجہد کو دکھاتی ہے، جو شہرت کے دہانے پر کھڑا اندرونی کشمکش اور بچپن کے صدمات سے لڑ رہا ہے، بالخصوص جب وہ 1982 کا مشہور البم نیبراسکا تخلیق کر رہا ہوتا ہے۔
جیریمی وائٹ کے مطابق، یہ فلم اسپرنگسٹین اور ان کے والد کے، جن کا کردار اسٹیفن گراہم نے ادا کیا ہے، درمیان پیچیدہ تعلقات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا ’ٹائنی اسپیس‘ پروجیکٹ کیا ہے؟
’میرے خیال میں کہانی کے مرکز میں خاندانی رشتوں کی طلب اور والد کے ساتھ تعلق کی کشمکش ہے، اسی دور میں اسپرنگسٹین نے وہ فیصلے کیے جنہوں نے انہیں وہ زندگی گزارنے کا موقع دیا جو وہ چاہتے تھے۔‘
فلم میں اسپرنگسٹین کے دیرینہ منیجر جان لینڈاؤ کا کردار نبھانے والے اداکار جیریمی اسٹرونگ کے مطابق یہ فلم بروس اور ’نیبراسکا‘ کی تخلیق کے بارے میں ہے۔
’لیکن اصل میں یہ آرٹ کے ذریعے زخموں کو بھرنے اور ذہنی دباؤ و مایوسی کا سامنا کرنے کی کہانی ہے، یہ ایک انتہائی جرات مندانہ داستان ہے کہ کیسے ایک دیومالائی فنکار کی انسانی پہلو کو پیش کیا گیا۔‘
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بروس اسپرنگسٹین کی زندگی کو بڑے پردے پر دکھایا جا رہا ہے، 76 سالہ مایہ ناز گلوکار فلم کی تیاری میں قریبی طور پر شامل رہے۔
مزید پڑھیں: کانز فلم فیسٹیول میں پہلی سعودی فلم ’نورہ‘ کی نمائش کا اعلان
دوسری جانب جیریمی وائٹ کا کہنا تھا کہ شروع ہی میں بروس اسپرنگسٹین نے ان کی گائیکی کی تعریف کی تھی، ان کے مطابق، میں بہت اچھا گاتا ہوں، صرف ان کی نقل نہیں بلکہ گانے کو اپنا بنا رہا ہوں، ان کے الفاط تھے کہ ’میں چاہتا ہوں پورا عمل اسی احساس کے ساتھ چلے۔‘
’اگر ان کی یہ رہنمائی نہ ہوتی تو میں یہ کردار اس طرح ادا نہیں کر پاتا، وہ بہت فیاض ثابت ہوئے، انہوں نے مجھے وہ گٹار دیا جس پر میں نے سیکھنا شروع کیا تھا اور وہ گٹار آج بھی میرے پاس ہے۔‘
فلم ’اسپرنگسٹین: ڈلیور می فرام نو ویئر‘ 22 اکتوبر سے دنیا بھر میں ریلیز کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپرنگسٹین: ڈلیور می فرام نو ویئر اسکاٹ کوپر بروس اسپرنگسٹین جیریمی وائٹ گائیکی گٹار لندن فلم فیسٹیول.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بروس اسپرنگسٹین جیریمی وائٹ گائیکی گٹار لندن فلم فیسٹیول بروس اسپرنگسٹین فلم فیسٹیول
پڑھیں:
گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔
رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔
اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔
زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔
خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔
نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔
پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔
قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔
یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں