وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت نیشنل انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ، ملک گیر خسرہ و روبیلا ویکسی نیشن مہم کی تیاریوں کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 اکتوبر2025ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت نیشنل انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیڈرل سیکرٹری ہیلتھ، ڈی جی ایف ڈی آئی سمیت مختلف وفاقی و صوبائی محکموں اور بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں 17 سے 29 نومبر 2025 تک جاری رہنے والی ملک گیر خسرہ و روبیلا (ایم آر) ویکسی نیشن مہم کی تیاریوں اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خسرہ اور روبیلا اب بھی پاکستان میں اہم عوامی صحت کے چیلنجز میں شامل ہیں۔ ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بروقت ویکسی نیشن اور مؤثر آگاہی مہم ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاق تمام صوبوں کے ساتھ قریبی رابطہ اور مؤثر کوآرڈینیشن کے ذریعے مہم کو کامیاب بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔(جاری ہے)
وزیر صحت نے ہدایت دی کہ عوامی آگاہی مہم کے لیے پیغام رسانی کو مزید مؤثر، مربوط اور جامع بنایا جائے تاکہ بچوں کی ویکسی نیشن یقینی ہو سکے ۔سینیٹر مصطفیٰ کمال نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو وباؤں اور بیماریوں سے بچانا ہی حقیقی معنوں میں ہیلتھ کیئر ہے۔ ہم اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ایم آ ر ویکسی نیشن مہم میں 5 سال تک کی عمر کے ہر بچے کی ویکسی نیشن کو یقینی بنایا جائے اور زیادہ سے زیادہ کوریج حاصل کرنے کے لیے تمام ادارے متحرک کردار ادا کریں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ویکسی نیشن کے لیے
پڑھیں:
ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
سٹی 42: ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی لاہور پہنچ گئے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب کا استقبال کیا۔
گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان ودیگرایئرپورٹ پر موجود تھے۔ایرانی وزیر داخلہ نے مزاراقبال اور دربار بی بی پاکدامن پر حاضری دی ۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر پنجاب سلیم حیدر خان بھی ہمراہ تھے۔
ایرانی وزیر داخلہ نے مزار اقبال پر پھول رکھے ،امن و استحکام کیلئے دعا کی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی