Express News:
2026-06-03@08:31:24 GMT

زاہد بھائی

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

معدودے چند لوگوں کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے‘کہ وہ ہمارے ملک کے مایہ ناز سیاسی خانوادوں کے ساتھ سائے کی طرح رہے ہوں اور انھوں نے عملی طور پر پاکستان کی سیاسی تاریخ کو ترتیب ہوتے دیکھا ہو۔ زاہد حسین ان میں سے ایک ہیں۔ ان کی شہرت ایک بہترین فوٹو گرافر کی تو خیر ہے ہی‘ مگر ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ذاتی فوٹو گرافر ہونے سے انھوں نے ایوان اقتدار ‘ جلاوطنی اور بے بسی‘ بھٹو خاندان کا ہر دور قریب سے دیکھا ہے۔

سجاد عباسی کی کتاب ‘ ’’صحافت بیتی‘‘ کی ورق گردانی کررہا تھا ۔ زاہد حسین کا نام پڑھا۔ سروق پر بھی ان کی تصویر نمایاں تھی۔ زاہد حسین کو زاہد بھائی کے نام سے جانتا ہوں۔ یک دم ‘ نصف صدی قبل کا لائل پور ‘ نظروں کے سامنے آ گیا۔ جناح کالونی کی سڑکیں‘ درودیوار ‘ ذہن کی کھڑکیوں میں نمودار ہو گئیں۔ ساٹھ ستر برس پہلے کا لائل پور ایک شاداب اور زرخیز علاقہ تھا ۔ جناح کالونی میں ‘ ہمارا اور زاہد بھائی کا گھر بالکل آمنے سامنے تھا۔ زاہد صاحب کی عمر مجھ سے کافی زیادہ تھی۔ ان کے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ کھیل کود کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ اس زمانہ میں نفسا نفسی کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ محلہ میںسب لوگ‘ ایک خاندان کی مانند زندگی گزار رہے تھے۔

جناح کالونی ایک متوسط طبقے پر مشتمل ایک شاندار علاقہ تھا۔ چھتری والی وسیع گراؤنڈ اور اس کے علاوہ بغیر نام کے ایک اور ‘ بڑی سی گراؤنڈ‘ کمال نظارہ پیش کرتی تھیں۔ ان سرسبز میدانوں میں‘ بچوں کے کھیلنے کی آوازیں سرشام ہی سے سننے کو ملتی تھیں۔ خوبصورت سانچے میں ڈھلی یہ ہاؤسنگ اسکیم‘ اب کیسی ہو گی۔ کچھ عرض نہیں کر سکتا۔ زاہد بھائی ۔ ایک سنجیدہ سے انسان تھے۔

موٹا ساچشمہ لگائے اکثر نظر آتے رہتے تھے۔ محلے میں اپنے ہم عمر نوجوانوں سے ان کی خوب دوستی تھی۔ بقا محمود‘ صالح محمد‘ ڈاکٹر قمر ان میں نمایاں تھے۔ بقا بھائی اب کس حال میں ہیں‘ اور کس حال میں نہیں ‘کچھ معلوم نہیں۔ صالح محمد‘ حیرت انگیزصلاحیتوں کے مالک تھے۔ کسرت کا شوق تھا اور ساتھ ہی موسیقی اور خطاطی کا بھی۔ ڈاکٹر قمر ‘ اس وقت کے ای میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھے۔ یہ تمام لوگ‘ مجھ سے آٹھ سے بارہ سال یا شاید اس سے بھی زیادہ عمر میں بڑے تھے۔

زاہد بھائی‘ اوائل عمری میں ہی‘ لائل پور سے کراچی چلے گئے۔ ان کی بابت‘ صرف یہ پتہ تھا کہ فوٹو گرافر بن گئے ہیں۔ مگر یہ اندازہ قطعاً نہ تھا کہ بھٹو خاندان کے ذاتی عکاس بن چکے ہیں۔ جو بذات خود ایک اعزاز کی بات ہے۔ صحافت بیتی میں ان کے متعلق مضمون ‘ پڑھ کر حد درجہ مسرت بھی ہوئی اور غم بھی۔ خوشی کی وجہ تو صرف یہ کہ چلیے ہمارے محلہ کے ایک نوجوان نے ملک کی سیاست کو ترتیب ہوتے دیکھا۔ غم اس امر کا‘ کہ زندگی کی دوڑ ‘ ہمیں ریت کے ذروں کی طرح ‘ بکھیر دیتی ہے۔ کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کون‘ کہاں چلا گیا۔

خیر زاہد حسین پر‘ کتاب میںجو درج ہے ۔ اس کے چند ٹکڑے‘ خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

زاہد حسین کا شمار پاکستان کے معروف ترین فوٹو گرافرز میں ہوتا ہے‘ جو گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصہ سے میڈیا سے وابستہ ہیں اور اپنے تجربے اور پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد پر ’’فوٹو جرنلسٹ‘‘ کی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔ وہ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز ‘ امریکی خبر رساں ایجنسی‘ ایسوسی ایٹڈ پریس اور انگریزی روزنامے ’’ڈان‘‘ ، کئی ملکی اور بین الاقوامی صحافتی اداروں میں خدمات انجام دیتے رہے۔ مگر ان کی ایک اہم شناخت پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے ذاتی اور خاندانی فوٹو گرافر کی ہے۔

وہ طویل عرصے تک پیپلزپارٹی کے ترجمان اخبار ’’مساوات‘‘ سے وابستہ رہے۔ اس دوران انھوںنے نہ صرف کئی اہم تاریخی واقعات کو عینی شاہد کے طور پر دیکھا‘ بلکہ اپنے کیمرے میں قید بھی کیا۔ اس طرح ان کے پاس اس وقت بھی سیاست اور تاریخ سے جڑی سوا لاکھ کے قریب تصاویر کا ریکارڈ موجود ہے۔

جن میں سے نصف سے زائد بھٹو خاندان اور ان کے سیاسی سفر کا احاطہ کرتی ہیں۔ زاہد حسین کی بنائی گئی تصاویر کی ایک بڑی نمائش کراچی پریس کلب میں منعقد ہو چکی ہے‘ جس کی مہمان خصوصی محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں۔ انھوں نے ایک تصویر آٹو گراف میں لکھا کہ ’زاہد حسین میرا بھائی ہے‘ جس نے جمہوریت کے لیے جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیا‘۔ اس ایک جملے کو زاہد حسین اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بہت بڑا سرمایہ قرار دیتے ہیں۔

بے نظر بھٹو کا ذکر آنے پر زاہد حسین ماضی میں کھو جاتے ہیں اور گاہے ان کی آنکھوں میں چمکدار نمی نمودار ہوتی ہے‘ جو محترمہ سے ان کے تعلق کی عکاسی کرتی ہے۔ پانچ دہائیاں صحافت پر قربان کرنے والے زاہد حسین لائنز ایریا کراچی کے ایک چھوٹے سے (ڈیڑھ مرلہ) گھر میںرہتے ہیں‘ جس کے ایک کمرے کو انھوں نے دفتر کا درجہ دے رکھا ہے اور جہاں پرانی تصاویر اور فلموں (نیگٹیوز) کی صورت پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ مگر اس خزینے کو جدید ٹیکنالوجی کے تحت ڈیجیٹلائز کر کے محفوظ بنانا زاہد حسین کا خواب ہے۔

اب ‘ زاہد بھئی کے انٹرویو کے چند اقتباسات درج کر رہا ہوں۔

س: بھٹو صاحب اپنی تصاویر میں کتنی دلچسپی لیتے تھے اور اس حوالے سے ان کی کیا ہدایات ہوتی تھیں؟

جواب: تصویر کے معاملے میں بھٹو صاحب نے صرف ایک چیز کی ممانعت کی تھی کہ میری تصویر کسی اکیلی خاتون کے ساتھ نہیں بنانی۔ ظاہر ہے بھٹو صاحب بہت مقبول اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے تو خواتین بہت آتی تھیں۔ اور ان کے مطابق ہم فلیش تو مار دیتے‘ مگر تصویر سرے سے بناتے ہی نہیں تھے۔

س: محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ آپ کا پہلا انٹرایکشن کب ہوا؟

ج: بی بی نے جب سیاست شروع کی تو ان کی طبیعت میں غصہ تھا۔ ظاہر ہے کہ والد کو پھانسی دی گئی۔ مشکل ترین حالات سے گزرنا پڑا۔ 77ء میں جب 5جولائی کو پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی اور سات جولائی کو بیگم نصرت بھٹو بچوں کو لے کر اسلام آباد سے کراچی آ گئیں۔ بھٹو اور پی این اے والے سارے مری میں تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انھیں حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ بھٹو خاندان کی خواتین کراچی آئیں تو ستر کلفٹن میں ملاقاتیں اور لوگوں کی آمدورفت شروع ہوگئی۔ وہاں بی بی سے ہماری پہلی ملاقات ہوئی۔ دیکھتا تو پہلے بھی رہا تھا۔ 71ء میں جب وہ اپنے والد کے ساتھ شملہ گئیں تو لاہور سے میں نے ایونٹ کور کیا تھا۔ مگر ان سے بات چیت جولائی 77ء میں شروع ہوئی۔

لوگوں کی آمدورفت اتنی زیادہ تھی کہ بیگم صاحبہ پریشان ہو گئیں۔ مرتضیٰ بھی یہاں تھا۔ پھر انھوں نے سوچا کہ معاملات کو ترتیب میں رکھنے کے لیے دیگر لوگوں کو Involveکیا جائے ‘ ہم چونکہ ’’مساوات‘‘ اخبار میں تھے۔ لہٰذا ایک طرح سے ہم میزبان بھی تھے‘ سیکریٹری وغیرہ تو ان کا کوئی تھا نہیں۔ ملازم تھے بس۔ ایک دن بیگم صاحبہ نے مجھے کہا : ’’لائبریری سے’بے بی‘ کو بلا لاؤ‘‘۔ میں چلا گیا۔ وہ بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھیں۔ میں نے کہا کہ آپ کو بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں۔ کیمرہ میرے کندھے سے لٹکا ہوا تھا۔ بولیں تم ’’مساوات‘‘ کے فوٹو گرافر ہو۔ میںنے اثبات میں جواب دیا۔ کہنے لگیں کہ مجھے بھی صحافی بننے کا بہت شوق ہے۔ ممی سے کہو میں آ رہی ہوں۔ بیگم صاحب نے ان سے کہا کہ خواتین بہت بڑی تعداد میں آ رہی ہیں‘ تم بھی ان سے ملاقاتیں کرو۔ پھر مرتضیٰ کو بلایا‘ جو انیکسی میں تھا۔ ان سے کہا تم پی ایف ایف اور پیپلز یوتھ کے لڑکوں کو دیکھو‘ تو یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔

س: محترمہ بے نظیر کے ساتھ آئس کریم کھانے کا واقعہ کیا تھا۔

ج: جیسے ہی بیگم صاحبہ گئیں تو انھوں نے کہا کون سی گاڑی کی بات ہو رہی ہے۔ جو شاہنواز چلاتا ہے؟ بتایا کہ ویسپا ہے۔ اٹالین ماڈل ہے۔ بنیادی طورپر یہ لڑکیوں کے لیے بنی ہے۔ بولیں دیکھوں تو… پھر معائنہ کر کے کہا: اس کو تو میں چلا سکتی ہوں۔ کہا کہ ایک کی وجہ سے ڈانٹ ابھی میں نے سنی ہے۔ اب آپ اور کیا چاہ رہی ہیں۔ بی بی نے کہا: کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ چلو اس پر آئسکریم کھا کر آتے ہیں۔ عنایت حسین نے منہ پر ہاتھ رکھ کر مجھے اشارہ کیا کہ یہ کام نہ کرو۔ ظاہر ہے بیگم صاحبہ ناراض ہوتیں‘ میں بھی تذبذب کا شکار تھا۔ بے نظیر نے کہا: کم آن‘ اسٹارٹ کرو‘ اب مرتا کیا نہ کرتا‘ میں نے ویسپا اسٹارٹ کیا۔ مڈایسٹ اسپتال کے سامنے آئس کریم پارلر تھا۔ جو اب بھی موجود ہے۔ وہاں جا کر بیٹھے۔ بی بی بار بار جا کر مختلف فلیورز ڈال کر کھاتی رہیں۔ ادھر میں تو اندر سے ہلا ہوا تھا کہ بیگم صاحبہ کو پتہ چلے گا تو آج نوکری تو گئی۔ (واضح رہے کہ بیگم نصرت بھٹو روزنامہ ’’مساوات‘‘ کے بورڈ کی چیئرپرسن تھیں)۔ خیر کچھ نہیں ہوا۔ واپس آئے تو بجائے اوپر سے گھوم کر آنے کے میں ون وے توڑتا ہوا واپس پہنچا۔ خوف جو طاری تھا۔

زاہد بھائی جناح کالونی اور لائل پور کی باتیں لکھنا ‘ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ آنکھوں میں دھند سی اتر رہی ہے۔ بچپن کی یادوں کی! سب کچھ خواب سا لگتا ہے!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: محترمہ بے نظیر بھٹو بھٹو خاندان جناح کالونی زاہد بھائی فوٹو گرافر بیگم صاحبہ زاہد حسین بیگم صاحب لائل پور انھوں نے کے ساتھ نے کہا اور ان کے ایک

پڑھیں:

سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب

سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔

 خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

 علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

 گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

 بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان