حکومت کا ملک بھر میں پنکھوں سے متعلق بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت نے بجلی کے استعمال میں کمی اور صارفین کی بچت کے لیے ملک بھر میں چلنے والے پنکھوں سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ملک میں بجلی کے استعمال میں کمی کے لیے بجلی سے چلنے والے عام پنکھوں کی تبدیلی کا پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پورے میں مرحلہ وار موجودہ عام پنکھوں کو کم بجلی استعمال کرنے والے پنکھوں سے تبدیل کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کے پنکھوں کی تبدیلی کے پروگرام پر اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری اور گورنر اسٹیٹ بینک سمیت اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی۔
اس اجلاس میں اسٹیک ہولڈرز نے پنکھا تبدیلی پروگرام کی عملی تیاری اور متوقع شیڈول، پیشگی شرائط کی تکمیل اور بینکنگ سسٹمز کے انضمام پر بریفنگ دی۔
وزیر خزانہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنکھے تبدیلی کا یہ پروگرام توانائی بچت اور اقتصادی استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ بجلی کے استعمال میں کمی سے صارفین کے طرز عمل میں مثبت تبدیلی لائےگا۔
انہوں نے پنکھے تبدیلی پروگرام کے پہلے مرحلے کا آغاز رواں ماہ سے کرنا ہے۔ اس لیے تمام ضروری اقدامات آئندہ دو سے تین ہفتوں میں مکمل کیا جائے تاکہ اس پروگرام پر عملدرآمد شروع ہو سکے۔
مزیدپڑھیں:ملک بھر میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کھولنے پر پابندی عائد
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔