کراچی(شوبز ڈیسک) پاکستان کی مشہور ٹی وی میزبان ندایاسر، جو طویل عرصے سے مارننگ شو کی میزبانی کر رہی ہیں، حال ہی میں اپنے ایک پروگرام میں والدہ کی وفات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔

ندا یاسر کے انسٹاگرام پر 20 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں اور وہ ایک کامیاب میزبان، پروڈیوسر اور اداکارہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

پروگرام میں ندایاسر نے قریبی عزیزوں اور دوستوں کی جدائی کے موضوع پر گفتگو کی، جس میں ان کے مہمان محسن عباس حیدر، میمونہ قدوس اور زینب رضا شامل تھے۔

دورانِ گفتگو جب ندا یاسر نے اپنی والدہ کے انتقال کا ذکر کیا تو وہ خود پر قابو نہ رکھ سکیں اور رونے لگیں۔

انہوں نے کہا،جب میری امی کا انتقال ہوا، میں پاکستان میں نہیں تھی۔ وہ کوویڈ کے دوران فوت ہوئیں اور میں مالدیپ میں تھی۔ جب واپس آئی تو میں روز ان کی وائس نوٹس سن کر روتی تھی۔ یہ میری عادت بن گئی تھی اور اس کا اثر میرے شوہر اور بچوں پر بھی پڑا۔ میں چڑچڑی ہو گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پھر میں نے خود سے بات کی اور فیصلہ کیا کہ میں وہ وائس نوٹس نہیں سنوں گی۔ وہ آج بھی میرے پاس ہیں، لیکن دوبارہ سننے کی ہمت نہیں ہوتی۔

نیدہ یاسر کی اس جذباتی گفتگو نے ناظرین کو بھی افسردہ کر دیا اور ان کی سچائی اور خلوص نے مداحوں کے دلوں کو چھو لیا۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے حوصلے اور دکھ کے اظہار کو سراہا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہندا یاسرکی والدہ اور سابق پی ٹی وی پروڈیوسر فہمیدہ نسرین 74 برس کی عمر میں انتقال کرگئ تھیں۔

وہ پی ٹی وی کے نامور پروڈیوسر کاظم پاشا کی اہلیہ تھیں۔ وہ خود بھی34 سال تک پی ٹی وی سے وابستہ رہیں اور بہت سے یادگار پروگرام کئے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی