پیوٹن اور ایمانوئل میکرون کا رابطہ، ایران کے ایٹمی پروگرام پر تفصیلی بات چیت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
فرانسیسی صدر نے روسی صدر کو بتایا کہ ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل خطے کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، ایران آئی اے ای اے سے تعاون کرے اور این پی ٹی معاہدے پر عمل کرے، ایرانی ایٹمی پروگرام اور میزائل سسٹم کے سفارتی حل کیلئے پر عزم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ روسی صدر اور فرانسیسی صدر کے درمیان 2 گھنٹے طویل ٹیلی فونک رابطہ ہوا، ایران کے ایٹمی پروگرام پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بتایا کہ ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل خطے کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، ایران آئی اے ای اے سے تعاون کرے اور این پی ٹی معاہدے پر عمل کرے، ایرانی ایٹمی پروگرام اور میزائل سسٹم کے سفارتی حل کیلئے پر عزم ہیں۔ روسی صدر پیوٹن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام پر امن مقاصد کیلئے ہے، ایران کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ این پی ٹی کے تحت ایران جوہری توانائی کے پروگرام کو جاری رکھ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پروگرام اور میزائل ایٹمی پروگرام
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔