اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے نئے ریکارڈز؛انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
کراچی:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے نئے ریکارڈز آج مسلسل دوسرے دن قائم ہو رہے ہیں، اس دوران انڈیکس تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
بدھ کے روز بازارِ حصص میں کاروبار کا آغاز 704 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 28 ہزار 904 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پی ایس ایکس میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کے سبب زبردست تیزی دیکھی گئی اور انڈیکس کی بلندی کے نئے ریکارڈز قائم ہوئے تھے، جس میں کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 27 ہزار، ایک لاکھ 28 ہزار اور ایک لاکھ 29 ہزار پوائنٹس کی سطحیں عبور کرگیا تھا۔
آج مسلسل دوسرے دن اسٹاک مارکیٹ میں جاری کاروبار میں ریکارڈ ساز تیزی دیکھی جا رہی ہے اورانڈیکس مسلسل اضافے کے ساتھ 1387 پوائنٹس کی تیزی کے نتیجے میں ایک لاکھ 29 ہزار 587 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح کو چھو چکا ہے۔
واضح رہے کہ منگل کے روز بازارِ حصص میں مجموعی طور پر 2572 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 28 ہزار 199 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پوائنٹس کی ایک لاکھ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔