وزیراعظم کا سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی پراطمینان
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نئے مالی سال کے پہلے دن پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس کے پہلی بار ایک لاکھ 27 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح عبور کرنے پر اطمینان کا اظہارکیا ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ نیا مالی سال ایک اچھی خبر اور معاشی میدان میں ایک اہم پیشرفت سے شروع ہوا ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ ہنڈرڈ انڈیکس کا اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنا اس امر کا مظہر ہے کہ ملکی معیشت اور حکومتی پالیسیوں پر کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کا اعتماد ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط و مستحکم ہو رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے مالی سال میں حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت میں انتہائی مثبت رجحان دیکھا گیا۔
وزیر اعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نیا مالی سال ملکی معیشت کی بہتری کی جانب سفر میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا ۔
انہوں نے کہا کہ ہم کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کے مشکور ہیںجو ملکی ترقی و خوشحالی میں حکومت کا بھر پور ساتھ دے رہے ہیں ۔
وزیراعظم نے ملک میں بہترین کاروباری ماحول کے فروغ اور سرمایہ کاروں کو مزید سہولتیں فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اظہار بھی کیا۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔