ندا یاسر کا انکشاف غیر ملکی ملازمہ کی چوری پر دلچسپ واقعہ بیان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
معروف اداکارہ اور میزبان ندا یاسر نے حالیہ انٹرویو میں اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک حیران کن واقعے کا ذکر کیا جس میں ان کے گھر میں کام کرنے والی ایک غیر ملکی ملازمہ چوری میں ملوث نکلی ندا یاسر نے بتایا کہ بیٹے کی پیدائش کے بعد انہوں نے بچے کی دیکھ بھال کے لیے ایک فلپائنی ملازمہ کو رکھا جو نہایت پیشہ ورانہ اور قابل اعتماد لگتی تھی غیر ملکی شہریت کی وجہ سے انہوں نے اس پر مکمل بھروسہ کیا تاہم کچھ ہی عرصے بعد ان کے گھر سے قیمتی اشیاء کے غائب ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا لیکن انہوں نے کبھی شک کا اظہار نہیں کیا ایک دن خریداری کے دوران ندا نے اپنا پرس ملازمہ کو تھما دیا بعد میں پتہ چلا کہ پرس میں موجود 300 یوروز غائب ہیں جس کے بعد انہوں نے معاملے کی چھان بین کا فیصلہ کیا ملازمہ نے اچانک چھٹی کی درخواست کی جو ندا نے منظور کر لی اور خود بھی اس کے ساتھ اس کے گھر چلی گئیں جہاں جا کر ایک حیران کن انکشاف ہوا ندا کو اپنے گھر کی اشیاء سے بھرے تین بیگ ملے جن میں برانڈڈ کپڑے موبائل فونز اور گمشدہ رقم موجود تھی چونکہ ملازمہ نے طویل عرصے تک ان کے گھر میں کام کیا تھا اور تمام قیمتی سامان واپس مل گیا تھا اس لیے ندا نے قانونی کارروائی سے گریز کیا البتہ متعلقہ ایجنسی کو مکمل رپورٹ ارسال کر دی تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکےندا یاسر نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سے سبق سیکھا ہے اور دوسروں کو بھی مشورہ دیا کہ گھر میں کام کرنے والے ملازموں کے حوالے سے ہمیشہ محتاط رہیں اور مکمل نگرانی کو یقینی بنائیں
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے ندا یاسر کے گھر
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔