داتا دربار کی تزئین وآرائش تیزی سے جاری،پاکستان استحکام کی جانب گامزن ہے،اسحاق ڈار کی میڈیا سے گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 جولائی2025ء) ڈپٹی وزیراعظم و سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ داتا دربار کی تزئین و آرائش کا کام تیزی سے جاری اور گنبد کو بلند کر دیا گیا ہے، مسجد میں مدینہ منورہ طرز کی چھتریاں بھی نصب کی جائیں گی، جس کی باقاعدہ اجازت وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے دیدی ہے۔وہ ہفتہ کے روز داتا دربار پر غسل دینے کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔
اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف،صدر آصف علی زرداری، قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف اور وزیراعلی مریم نواز کی جانب سے داتا دربار کی تزئین و آرائش کے آغاز پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ آئندہ غسل سے پہلے داتا دربار کا تعمیراتی کام مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ31 مئی 1999 ء کو اس منصوبے کا پہلا افتتاح محمد نوازشریف نے کیا تھا،اب یہ منصوبہ مکمل ہونے جا رہا ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ محمد شہباز شریف ملکی ترقی کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں جس سے ہمیں بے پناہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ بھارت کے ساتھ جنگی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے فضائی جنگ کا آغاز کیا، لیکن پاکستان نے چھ طیارے مار گرائے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے 36 گھنٹوں میں80 ڈرون بھیجے جن کا پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا، پاکستان کو عالمی سطح پر عزت، احترام اور کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا دو سال کے لیے رکن منتخب کیا گیا جو ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ایران سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف ایران کا سفارتی سطح پر ساتھ دیا،جس پر ایران نے پاکستان کو سچا دوست قرار دیا، ایرانی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کے حق میں نعرے لگے۔ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا جنگی ایجنڈا نہیں، ہم امن و سلامتی اور خطے کے استحکام کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کا اصل ایجنڈا اقتصادی بہتری ہے، جس پر دن رات کام ہو رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آذربائیجان سے دو ارب ڈالر کا معاہدہ کیا گیا ہے، مہنگائی میں کمی اور شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ گئی ہے ، ترقی کی راہ ہموار ہو چکی ، عوام کی فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کسی قسم کی وزارت یا خواہش کا اظہار نہیں کیا،وہ اتحادی جماعت ہے اور مشکل وقت میں ساتھیوں کو نہیں چھوڑا جاتا، دونوں جماعتوں کا اتحاد ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، افواہوں اور اسپانسرڈ خبروں سے گمراہ نہیں ہونا چاہیے، تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر چلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن چاہے خیبرپختونخوا میں ہو یا کسی بھی صوبے میں، اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا، لیکن وقت پر فیصلے نہ لیئے جاتے تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا، اب زر مبادلہ کے ذخائر14 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت سیز فائر قائم ہے، بھارت کے بیانات سے گھبرانے والے نہیں، پہلے بھی کامیاب ہوئے،آئندہ بھی کامیاب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ عام ویزوں کے معاملے کو بہتر کیا جا رہا ہے ،اس حوالے سے مذاکرات سات آٹھ ماہ سے چل رہے ہیں اور درخواست ہے کہ بلیو پاسپورٹ ہولڈرز کو بھی خصوصی رسائی دی جائے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسحاق ڈار نے کہا انہوں نے کہا کہ داتا دربار کہ پاکستان کرتے ہوئے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک