را نے ہمیں پاکستان کے خلاف استعمال کیا، مودی نے دھوکہ دیا،بلوچ علیحدگی پسند رہنما کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بلوچ علیحدگی پسند رہنما نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” نے کئی برسوں تک انہیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا۔
ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ “سچ کا سامنا کرنا ہوگا، برسوں تک را نے ہمیں پیسہ، اسلحہ اور تربیت فراہم کی۔ ہمیں یہ یقین دلایا گیا کہ یہ جنگ بلوچ آزادی کے لیے ہے، لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ ہم صرف بھارت کے مفادات کے لیے استعمال کیے گئے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “ابتداء میں مودی اور را پر مکمل اعتماد تھا، انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ وہ ہمارے مقصد کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں گے اور مستقل مدد فراہم کریں گے، لیکن آج مودی ہماری کال تک نہیں سنتا۔
بلوچ رہنما نے انکشاف کیا کہ “ہمیں اس میدان جنگ میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے جو بھارت نے خود بنایا۔ ہمارے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں، خاندان برباد ہو گئے، اور یہ سب کچھ صرف بھارت کے اسٹریٹجک کھیلوں کے لیے ہوا۔”
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہم را کے ہاتھوں صرف مہرے بنے رہے، جنہیں بلوچ عوام یا ان کے حقوق سے کوئی سروکار نہیں تھا، انہیں صرف پاکستان کو کمزور کرنا تھا۔”ان کا کہنا تھا کہ “آج ہمیں دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے اور مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی حمایت کے تمام وعدے جھوٹے نکلے۔ مودی نے ہمیں استعمال کیا، دھوکہ دیا اور جب ہم اس کے منصوبے کے لیے غیر ضروری ہو گئے تو چھوڑ دیا۔”
آخر میں انہوں نے اعتراف کیا کہ “مجھے گہرا افسوس ہے کہ میں نے اپنی قوم کے نوجوانوں کو تباہی کے راستے پر ڈالا۔ اب مجھے صاف دکھائی دیتا ہے کہ بھارت کبھی بھی ہمارا دوست نہیں تھا، ہم ایک بین الاقوامی سازش میں استعمال ہوئے اور آج اس کی قیمت اکیلے چکا رہے ہیں۔”
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔