اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بلوچ علیحدگی پسند رہنما نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” نے کئی برسوں تک انہیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ “سچ کا سامنا کرنا ہوگا، برسوں تک را نے ہمیں پیسہ، اسلحہ اور تربیت فراہم کی۔ ہمیں یہ یقین دلایا گیا کہ یہ جنگ بلوچ آزادی کے لیے ہے، لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ ہم صرف بھارت کے مفادات کے لیے استعمال کیے گئے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “ابتداء میں مودی اور را پر مکمل اعتماد تھا، انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ وہ ہمارے مقصد کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں گے اور مستقل مدد فراہم کریں گے، لیکن آج مودی ہماری کال تک نہیں سنتا۔

بلوچ رہنما نے انکشاف کیا کہ “ہمیں اس میدان جنگ میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے جو بھارت نے خود بنایا۔ ہمارے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں، خاندان برباد ہو گئے، اور یہ سب کچھ صرف بھارت کے اسٹریٹجک کھیلوں کے لیے ہوا۔”

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہم را کے ہاتھوں صرف مہرے بنے رہے، جنہیں بلوچ عوام یا ان کے حقوق سے کوئی سروکار نہیں تھا، انہیں صرف پاکستان کو کمزور کرنا تھا۔”ان کا کہنا تھا کہ “آج ہمیں دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے اور مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی حمایت کے تمام وعدے جھوٹے نکلے۔ مودی نے ہمیں استعمال کیا، دھوکہ دیا اور جب ہم اس کے منصوبے کے لیے غیر ضروری ہو گئے تو چھوڑ دیا۔”

آخر میں انہوں نے اعتراف کیا کہ “مجھے گہرا افسوس ہے کہ میں نے اپنی قوم کے نوجوانوں کو تباہی کے راستے پر ڈالا۔ اب مجھے صاف دکھائی دیتا ہے کہ بھارت کبھی بھی ہمارا دوست نہیں تھا، ہم ایک بین الاقوامی سازش میں استعمال ہوئے اور آج اس کی قیمت اکیلے چکا رہے ہیں۔”

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ