بھارت کی ایک اور سبکی، پاکستان ٹیم کو کلیرنس دینا پڑگئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں اگلے ماہ ہونے والے ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے پاکستانی ٹیم کو بھارت کی جانب سے باضابطہ کلیئرنس مل گئی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق وزارت داخلہ اور وزارتِ خارجہ نے پاکستانی ہاکی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد پاکستان کی شرکت اب یقینی ہوگئی ہے۔بھارتی وزارت کھیل کے ذرائع نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت سے روکنا اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی ہوگی۔بھارتی وزارتِ کھیل کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والے ٹورنامنٹس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلوں کے خلاف نہیں، بین الاقوامی مقابلوں کا تقاضا ہے کہ ہم ان میچز سے پیچھے نہ ہٹیں۔وزارت کھیل کے ذرائع نے کہا کہ چاہے سیاسی حالات کچھ بھی ہوں۔ روس اور یوکرین جنگ کے باوجود ایونٹس میں شرکت کرتے ہیں، یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے، وزارت نے واضح کیا کہ پاکستان ہاکی ٹیم کو ایشیا کپ میں شرکت سے نہیں روکا جائے گا۔دوسری جانب ہاکی انڈیا نے حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، ہاکی انڈیا کے سیکریٹری جنرل بھولا ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہمارا مؤقف شروع سے یہی رہا ہے کہ ہم حکومت کے فیصلے کے پابند رہیں گے۔پاکستان ہاکی فیڈریشن پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ قومی ٹیم صرف حکومتِ پاکستان کی اجازت سے ایشیا کپ میں شرکت کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔