صیہونی طیاروں کی جنوبی اورشمالی علاقوں پر بمباری، مزید 116 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
غزہ(نیوز ڈیسک)صیہونی طیاروں نے جنوبی اور شمالی علاقوں پر بمباری کردی،جس کے نتیجے میں مزید 116 فلسطینی شہید ہوگئے۔
غزہ میں صیہونی طیاروں نے جنوبی اور شمالی علاقوں پر بمباری کردی،جس کے نتیجے میں درجنوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں،اسرائیلی طیاروں نےکیفے،اسکول،اسپتال اور کیمپوں پر بمباری کی،جس میں بے گھر افراد کی بڑی تعداد نشانہ بنی۔
ایک طرف اسرائیلی حملے جاری ہیں تو دوسری طرف جنگ بندی کی کوشش ہورہی ہیں ۔۔مصری وزیر خارجہ اور قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ مصری وزارت خارجہ کے مطابق بات چیت میں غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو دوبارہ شروع کرنے اور فلسطین میں خونریزی روکنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
700 روپے قسط پر گاڑی حاصل کریں، شوروم مالک نے پُرکشش آفر لگا دی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔