امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیلاب سے متاثرہ علاقے ٹیکساس کا دورہ کیا، جہاں 4 جولائی کی صبح ہونے والے شدید سیلاب میں کم از کم 120 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو گئے۔

اس دورے کے دوران صدر نے سیلاب متاثرین، ایمرجنسی ٹیموں اور مقامی حکام سے ملاقاتیں کیں اور تباہ شدہ علاقے کا جائزہ لیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکساس میں ایسی تباہی کبھی نہیں ہوئی اور درجنوں لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں۔ انہوں نے امدادی کارروائیوں کی حمایت کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ حکومت نے بروقت امدادی کارروائی کا آغاز کیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی تاریخ میں بدترین سیلاب کا سامنا کیا گیا، سیلاب میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے انہوں نے کہا کہ حکومت سیلاب زدہ علاقے کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق بروقت سیلاب وارننگ سسٹم نہ لگانے پر بھی تنقید کی گئی، تاہم ٹرمپ نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ایسا نظام ممکن بنایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ریاستی قانون ساز اسمبلی میں اس ماہ خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ فنڈز اور ذمہ داریوں کا تعین کیا جا سکے ۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ پر الزام ہے کہ وہ سیاسی بنیادوں پر ریاستوں کے ساتھ رویہ اپناتے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ امدادی اقدامات غیر جانبدارانہ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل