ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد تادیبی کارروائی، سیکرٹ سروس ایجنٹس کے 6 اہلکار معطل
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جولائی 2024 میں پنسلوانیا میں ایک انتخابی جلسے کے دوران ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد سیکرٹ سروس کے 6 اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر امریکی سیکرٹ سروس نے تصدیق کی ہے کہ 6 ایجنٹس کو غفلت برتنے پر 10 سے 42 دن تک کے لیے معطل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی ریلی کے دوران قاتلانہ حملے میں زخمی، حملہ آور ہلاک، عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟
سیکرٹ سروس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قانونی پابندیوں کی وجہ سے ان اہلکاروں کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا تھا جب ایک حملہ آور اس وقت صدارتی انتخابات کے امیدوار کے جلسے کے قریب ایک چھت پر چڑھ گیا اور سابق صدر پر گولی چلائی۔
اس حملے میں ایک شہری جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے کان پر گولی کا زخم آیا تھا۔ سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے موقع پر ہی حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حملہ ڈونلڈ ٹرمپ سیکرٹ سروس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حملہ ڈونلڈ ٹرمپ سیکرٹ سروس ڈونلڈ ٹرمپ سیکرٹ سروس
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :