خلیل کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں احتجاجی مظاہروں کے ترجمان تھے اور اکتوبر 2023ء میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد وہ فلسطینی یکجہتی تحریک کا ایک نمایاں چہرہ بن گئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطینی نژاد امریکی اور کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالبعلم کارکن محمود خلیل نے امریکی سرکاری اداروں کے خلاف 20 ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی، امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) اور محکمہ خارجہ کے خلاف دائر کیا گیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں ناجائز طور پر حراست میں لیا، جھوٹے الزامات لگائے اور ان کی شہرت کو شدید نقصان پہنچایا۔ خلیل نے خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ اپنی طاقت کا غلط استعمال اس لیے کر رہے ہیں، کیونکہ وہ خود کو ناقابلِ احتساب سمجھتے ہیں، اگر کوئی ان کا محاسبہ نہ کرے تو یہ ظلم یونہی جاری رہے گا۔ خلیل کا کہنا ہے کہ ہرجانے کی رقم ان طلبہ اور کارکنوں کی مدد کے لیے استعمال کروں گا، جن کی آواز ٹرمپ نے دبانے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ خلیل کو مارچ میں نیویارک سے گرفتار کرکے ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے لوئزیانا منتقل کیا گیا، جہاں انہیں 100 دن سے زائد حراست میں رکھا گیا تھا۔

خلیل کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں احتجاجی مظاہروں کے ترجمان تھے اور اکتوبر 2023ء میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد وہ فلسطینی یکجہتی تحریک کا ایک نمایاں چہرہ بن گئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے 2025ء میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر ملکی طلبہ اور مظاہرین کے خلاف سخت پالیسیوں کا اعلان کیا، انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس کے تحت امریکا مخالف رویہ رکھنے والے غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کے احکامات دیئے گئے۔ خلیل کے وکلا نے ان کی فوری رہائی اور ملک بدری روکنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا، حراست کے دوران خلیل کے اہلخانہ کو کئی دن تک ان کے مقام کا علم نہ ہوسکا، جون 2025ء میں نیوجرسی کی ایک عدالت نے خلیل کی رہائی کا حکم دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید