کون سے چیٹ بوٹس اردو میں سرچ کی سہولت فراہم کرتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
میٹا نے پاکستان میں اپنے مصنوعی ذہانت (AI) اسسٹنٹ، میٹا اے آئی، کو اردو میں متعارف کروا دیا ہے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ اس اقدام کے بعد پاکستانی صارفین میٹا اے آئی کے ذریعے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر اردو زبان میں بات چیت اور معلومات حاصل کر سکیں گے۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسی کون کون سی چیٹ بوٹس ہیں جن کے ذریعے اردو میں باآسانی سرچ کیا جا سکتا ہے اور وہ آپ کے لیے مفید ثابت ہوں گے؟
اردو میں سرچ کرنے والے نمایاں چیٹ بوٹس: چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT)چیٹ جی پی ٹی ایک جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ ہے جو انٹرنیٹ کے ہر شعبے میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ اس نے انسانی زندگی کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ صارفین اس کے ذریعے فوری اور موزوں جوابات حاصل کر سکتے ہیں، چاہے وہ تحریر لکھنا ہو، ڈیزائن بنانا ہو، حساب کتاب کرنا ہو یا کسی موضوع پر معلومات حاصل کرنی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: ’اپنے دوست کو کیسے قتل کروں؟‘، چیٹ جی پی ٹی سے مدد مانگنے پر نوجوان گرفتار
چیٹ جی پی ٹی میں تصاویر بنانے کا فیچر بھی شامل ہے جو خاص طور پر صارفین میں بہت مقبول ہے۔ چیٹ جی پی ٹی متعدد زبانوں میں کام کرتا ہے، جن میں اردو بھی شامل ہے، اور چند سیکنڈز میں صارفین کی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
میٹا اے آئی (Meta AI)میٹا نے اپنے AI اسسٹنٹ کو پاکستان میں اردو زبان میں متعارف کرایا ہے، جس سے صارفین اردو میں سوالات کر کے تفصیلی جوابات حاصل کر سکتے ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آسانی سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔
گوگل اے آئی سرچ موڈ (Google AI Search Mode)گوگل کا AI سرچ موڈ اب اردو زبان میں بھی دستیاب ہے۔ یہ فیچر پاکستان سمیت دنیا کے 45 سے زائد ممالک میں متعارف کرایا گیا ہے، جس سے صارفین پیچیدہ سوالات اردو میں پوچھ سکتے ہیں اور تفصیلی جوابات حاصل کر سکتے ہیں۔ گوگل کا یہ فیچر Gemini 2.
چینی کمپنی ڈیپ سیک کی مصنوعی ذہانت کی ایپ نے عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں دھوم مچا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ ایپ فزکس، ریاضی اور عام ذہانت کے سوالات کے جواب اتنی ہی عمدگی سے دیتی ہے جتنی چیٹ جی پی ٹی، اور اس پر وقت بھی کم لگتا ہے۔ ڈیپ سیک کو 2023 میں لیانگ وین فینگ نے قائم کیا تھا، جو ایک معروف ہیج فنڈ کے شریک بانی بھی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی ٹیکنالوجی چیٹ جی پی ٹی میٹا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی ٹیکنالوجی چیٹ جی پی ٹی میٹا چیٹ جی پی ٹی کر سکتے ہیں کے ذریعے اے آئی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :